میڈرڈ( 13 اکتوبر 2026 دوست نیوز) اسپین کی سیاسی جماعت ووکس (Vox) نے ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت انکم ٹیکس (IRPF) سے مستثنیٰ سالانہ آمدنی کی حد بڑھا کر 22 ہزار یورو کرنے، ٹیکس کی شرحوں میں کمی اور عمومی ویلیو ایڈڈ ٹیکس (IVA) کو 21 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے۔
ووکس نے ان تجاویز کے ممکنہ اثرات واضح کرنے کے لیے ایک آن لائن تنخواہ کیلکولیٹر بھی متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے ملازمین اور خود روزگار افراد اپنی سالانہ مجموعی آمدنی، تنخواہوں کی تعداد، ملازمت کی نوعیت اور دیگر خاندانی حالات کے مطابق خالص ماہانہ تنخواہ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
22 ہزار یورو تک آمدنی والوں کو کتنا فائدہ ہوگا؟
ووکس کے کیلکولیٹر کے مطابق، اگر کسی شخص کی سالانہ مجموعی آمدنی 21 ہزار 444 یورو ہو، تو مجوزہ نظام کے تحت اسے انکم ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔
مثال کے طور پر، مستقل ملازمت، سال میں 12 تنخواہوں اور زیرِ کفالت بچوں کے بغیر ایک ملازم کی ماہانہ خالص تنخواہ موجودہ 1,449 یورو کے مقابلے میں بڑھ کر 1,670 یورو ہوجائے گی۔ اس طرح اسے ہر ماہ 221 یورو اضافی مل سکتے ہیں۔
پارٹی کی تجویز کے مطابق، 70 ہزار یورو سالانہ تک آمدنی پر انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد اور اس سے زیادہ آمدنی پر 25 فیصد مقرر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ہر زیرِ کفالت بچے کے لیے ٹیکس کی شرح میں چار فیصد پوائنٹس کمی کی تجویز بھی شامل ہے۔
ٹیکس میں کمی پر 85 ارب یورو لاگت کا اندازہ
اسپین کے وزیرِ خزانہ آرکادی ایسپانیا نے خبردار کیا ہے کہ انکم ٹیکس میں مجوزہ کمی سے سرکاری خزانے کو تقریباً 85 ارب یورو کا نقصان ہوسکتا ہے۔ حکومت کے مطابق، یہ رقم موجودہ انکم ٹیکس وصولیوں کے نصف سے بھی زیادہ ہے۔
ووکس نے کمپنیوں پر ٹیکس 25 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے، کم آمدنی والے خود روزگار افراد کو سماجی تحفظ کی ماہانہ فیس سے مستثنیٰ کرنے اور ٹیکس ادائیگی کے لیے چھ ماہ کی بلا سود مہلت دینے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
