بارسلونا اور میڈرڈ کے مرکزی علاقوں میں پانچ لاکھ مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں، ماہرین نے خالی زمینوں کو استعمال میں لانے پر زور دے دیا
میڈرڈ( 13 اکتوبر 2026 دوست نیوز)اسپین میں رہائشی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں مکانات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دستیابی میں کمی کے باوجود لاکھوں گھروں کی تعمیر کے لیے موزوں زمین خالی پڑی ہے۔ وزارتِ ہاؤسنگ کے تکنیکی اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں پہلے سے شہری ترقی کے لیے تیار زمین پر تقریباً 67 لاکھ مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں، جن میں سے 15 لاکھ مکانات ان شہری علاقوں میں بن سکتے ہیں جہاں رہائش کی قیمتوں کا دباؤ سب سے زیادہ ہے۔
بینک آف اسپین کے اندازے کے مطابق، موجودہ رہائشی بحران پر قابو پانے کے لیے ملک کو تقریباً ساڑھے سات لاکھ اضافی مکانات درکار ہیں، جبکہ 2028 تک یہ کمی بڑھ کر دس لاکھ مکانات تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ زمین کی عدم دستیابی نہیں بلکہ پہلے سے شہری ترقی کے لیے مختص زمین کو تعمیرات کے لیے استعمال نہ کرنا ہے۔ فنکاس کے محقق اگناسیو ایسکیاگا اور جامعہ گیرونا کے پروفیسر جوزپ ماریا اگیری فونٹ کے مطابق، متعدد زمینیں سرمایہ کاری کے لیے خریدی گئی تھیں، مگر اب ان پر تعمیرات نہیں ہو رہیں۔ ان میں سے کئی زمینیں سرمایہ کاری فنڈز اور سرکاری ادارے ساریب کے پاس ہیں۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ مقررہ مدت تک غیر استعمال شدہ زمین کو دوبارہ غیر تعمیراتی قرار دینے، ضرورت پڑنے پر جبری فروخت یا قانونی شرائط کے تحت حصولِ اراضی جیسے اقدامات کیے جائیں، تاکہ زمین کو رہائشی منصوبوں کے لیے دستیاب بنایا جا سکے۔
کارٹیخینا اور لورکا کی بلدیات پہلے ہی بعض زمینوں کو تعمیرات کے لیے متحرک کرنے کے اقدامات کر چکی ہیں۔ بارسلونا میں بھی خالی زمینوں کا رجسٹر موجود ہے، جس کے تحت مخصوص شرائط پوری ہونے پر زمین کے حصول کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے اختتام پر میڈرڈ میں خالی زمینوں پر تقریباً تین لاکھ پچاس ہزار جبکہ بارسلونا میں ایک لاکھ بیالیس ہزار مکانات تعمیر کرنے کی گنجائش موجود تھی۔ ماہرین کے نزدیک، رہائشی بحران میں کمی کے لیے نئی زمین تلاش کرنے کے بجائے موجودہ شہری زمین پر تعمیرات شروع کرنا اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
