میڈرڈ( 12 اکتوبر 2026 دوست نیوز) خواتین میں سنِ یاس (مینوپاز) کے اثرات کے حوالے سے ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آخری ماہواری کے آس پاس جسم میں کئی اہم تبدیلیاں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے رونما ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں سے ہڈیوں کی مضبوطی، جگر، گردوں، کولیسٹرول اور خون کے مختلف اجزا متاثر ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کے ویزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے محققین نے اپنی تحقیق میں امریکہ اور اسرائیل کی دو بڑی طبی ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا۔ اس مطالعے میں 10 لاکھ سے زائد خواتین کے طبی ریکارڈ اور 30 کروڑ سے زیادہ لیبارٹری ٹیسٹ شامل تھے۔ تحقیق کے نتائج پیر کو معروف سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئے۔
محققین کے مطابق امریکہ میں خواتین کے 90 طبی پیمانوں میں سے 52 میں آخری ماہواری کے قریب اچانک تبدیلیاں سامنے آئیں۔ ان میں ہڈیوں کی کثافت میں کمی، جگر کے خامروں، گردوں کے افعال اور کولیسٹرول کی سطح میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ ہڈیوں میں ذخیرہ شدہ سیسہ خون میں بڑھنے کے شواہد بھی ملے۔
تحقیق کے مطابق سنِ یاس کے بعد آسٹیوپوروسس، دل کے دورے اور فالج کے خطرات میں اضافے کے رجحانات دیکھے گئے۔ ڈپریشن اور نیند کے مسائل میں بھی عارضی اضافہ سامنے آیا۔ تاہم، یہ نتائج آبادی کی مجموعی صورتِ حال ظاہر کرتے ہیں، ہر خاتون میں تبدیلیوں کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ سنِ یاس سے کئی سال پہلے ہارمونز میں تبدیلیاں شروع ہو سکتی ہیں۔ اینٹی مولیرین ہارمون تقریباً 15 سال پہلے، ایف ایس ایچ 14 سال پہلے اور ایسٹراڈیول 12 سال پہلے تبدیلی کے مراحل میں داخل ہو سکتے ہیں۔
ہارمون تھراپی استعمال کرنے والی خواتین میں کئی تبدیلیاں نسبتاً کم تھیں، خصوصاً ہڈیوں، جگر اور گردوں سے متعلق پیمانوں میں۔ تاہم، محققین نے واضح کیا کہ یہ مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے علاج کے براہِ راست فوائد ثابت کرنے کے لیے مزید آزمائشیں ضروری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی صحت کے لیے سنِ یاس سے پہلے ہی آگاہی، علامات کی نگرانی اور بروقت طبی مشورہ اہم ہے۔
