میڈرڈ(دوست نیوز) اسپین میں بائیں بازو کی چار سیاسی جماعتوں نے بارسلونا کی سابق میئر اَدا کولاؤ کو 29 نومبر کے انتخابات میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے امیدوار نامزد کرنے کی تجویز پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد پودیموس پر انتخابی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اسپین میں متبادل بائیں بازو کی سیاست میں جاری اختلافات کے درمیان یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ریپبلکن لیفٹ آف کاتالونیا (ERC) کے رہنما گیبریل روفیان نے اتوار کو متبادل بائیں بازو کے اتحاد کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ اس فیصلے سے دیگر جماعتوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی اور مشترکہ امیدوار کے انتخاب کے لیے کوششوں میں تیزی آئی۔
فرنٹ ایمپلیو (وسیع محاذ) میں شامل چار جماعتوں، ازکیئردا یونیدا (IU)، ماس میڈرڈ، کومونس اور مووی مینتو سوما ر نے کولاؤ کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسپین کی مزدور تنظیموں CCOO اور UGT کے سربراہان، اونائی سوردو اور پے پی الواریز نے بھی تمام جماعتوں پر متحدہ انتخابی فہرست بنانے کے لیے زور دیا ہے۔
اَدا کولاؤ کا انتخاب اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ان کے پودیموس کے ساتھ سابقہ تعلقات دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ وہ بارسلونا کی میئر رہ چکی ہیں اور بے دخلی کے خلاف شہری تحریکوں سے وابستہ رہی ہیں۔ رہائشی مکانات کے حق کا مسئلہ بھی انتخابی مہم کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔
چاروں جماعتوں نے پودیموس کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا کہ مشترکہ سیاسی منصوبے میں کسی جماعت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
تاہم، امیدواروں کی فہرست اور نشستوں کی تقسیم پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ ماس میڈرڈ نے میڈرڈ میں ایمیلیو دیلگادو کو فہرست میں پہلے اور مونیکا گارسیا کو دوسرے نمبر پر رکھنے کی تجویز دی ہے، جبکہ پودیموس کھلے پرائمری انتخابات کے ذریعے امیدواروں کے انتخاب پر اصرار کر رہی ہے۔
اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بھی اہم نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ انتخابی اتحاد کے اندراج کی آخری تاریخ میں صرف چار دن باقی ہیں، اس لیے جماعتوں کو جلد کسی حتمی معاہدے پر پہنچنا ہوگا۔ کولاؤ کی نامزدگی نے اتحاد کی امید ضرور پیدا کی ہے، لیکن اختلافات برقرار رہنے کی صورت میں بائیں بازو کے ووٹ تقسیم ہونے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
