ہسپانوی وزیراعظم پیدروسانچز نے اعتراف کیا کہ مراکش کی بحری دراندازی روکنے کے لیے ہسپانوی بحریہ نے ایک فریگیٹ تعینات کیا تھا۔
میڈرڈ( 12 اکتوبر 2026دوست نیوز)ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ مراکش کے جنگی بحری جہاز 30 اور 31 جولائی کو سیوتا (Ceuta) کے سمندری پانیوں میں داخل ہوئے تھے۔ یہ وہی دن تھے جب تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
قومی دن کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ تقریب کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ مراکش کے بحری جہازوں کی سمندری دراندازی روکنے کے لیے ہسپانوی بحریہ نے ایک فریگیٹ تعینات کیا تھا۔
اگرچہ پیدرو سانچیز نے ان بحری جہازوں کے داخلے کی وجوہات کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر رابطوں کے ذریعے صورتِ حال کو حل کر لیا گیا۔
روزنامہ ایل پائیس (El País) کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، مراکش کے جنگی بحری جہاز بغیر اجازت سیوتا کے قریب اسپین کی خودمختار سمندری حدود میں داخل ہوئے تھے۔ یہ واقعہ عین انہی دنوں پیش آیا جب تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
صورتِ حال کے پیشِ نظر اسپین نے سمندری کارروائیوں کے لیے مخصوص ایک بحری جہاز (RAM) کو متحرک کیا، جو پیر 3 اگست کو سیوتا کی بندرگاہ پر پہنچا۔ اس کے بعد ہسپانوی وزارتِ دفاع نے علاقے میں اپنی موجودگی مزید مضبوط کرنے کے لیے فریگیٹ ’سانتا ماریا‘ (Santa María) تعینات کیا۔ بعد ازاں تکنیکی خرابی کے باعث اس کی جگہ فریگیٹ ’ناوارا‘ (Navarra) کو تعینات کر دیا گیا۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اسپین اور مراکش کے تعلقات میں کشیدگی کے ادوار آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق بات چیت کے ذریعے صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات بحال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کی صورتِ حال بحال کی جا رہی ہے۔
