سیوتا( 13 اکتوبر 2026 دوست نیوز)اسپین کے بادشاہ فیلیپ ششم نے سیوتا کے اپنے تاریخی دورے کے دوران واضح کیا ہے کہ سیوتا اسپین کا حصہ ہے اور ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مہاجرت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کے درمیان اتحاد، مؤثر تعاون اور مراکش کے ساتھ نیک نیتی پر مبنی تعلقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
خبر رساں ادارے یوروپا پریس کے مطابق، بادشاہ فیلیپ ششم نے ملکہ لیتیزیا کے ہمراہ سیوتا کے دورے کے دوران اپنے خطاب میں تین مرتبہ کہا کہ ’’سیوتا اسپین ہے‘‘۔ انہوں نے سیوتا اور ملییا کو اسپین کی سیاسی اور قومی حقیقت کا ناقابلِ تنسیخ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں شہروں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت ناقابلِ مذاکرات ہے۔
بادشاہ نے یاد دلایا کہ سیوتا اور ملییا کی سرحدیں یورپی یونین کی بیرونی سرحدیں بھی ہیں، لہٰذا ان سرحدوں کو درپیش کسی بھی خطرے کو پورے یورپی اتحاد کے لیے خطرہ سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے یکجہتی اور مشترکہ ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کریں۔
مہاجرت کے بحران پر گفتگو کرتے ہوئے فیلیپ ششم نے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے تارکینِ وطن کو جلد از جلد قانونی طریقۂ کار کے مطابق اپنے آبائی ممالک واپس بھیجا جانا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ جب تک یہ افراد سیوتا میں موجود ہیں، ان کے ساتھ انسانی وقار، ہمدردی اور قانون کے تحت تمام ضمانتوں کے مطابق سلوک کیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے مقامی شہریوں سے بھی اظہارِ یکجہتی کیا اور پولیس، سول گارڈ، فوج، طبی عملے، امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کی خدمات کو سراہا۔
مراکش کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بادشاہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہمسائیگی کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام اور نیک نیتی ہونی چاہیے۔
آخر میں انہوں نے سیوتا کے شہریوں کو یقین دلایا کہ اسپین انہیں تنہا اور بے سہارا نہیں چھوڑے گا۔ ان کے مطابق، مشکلات اور غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود شہر کا مستقبل امید اور خوشحالی سے وابستہ ہے۔
