اسپین کے شہر غرناطہ میں واقع تاریخی الحمرا محل کے احاطے میں پارکور کرتے ہوئے ایک ستون توڑنے والے نوجوان کی پولیس نے شناخت کر لی ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کا تعلق سلوواکیہ سے ہے، تاہم تاحال اس کے موجودہ مقام کا پتا نہیں چل سکا۔ تاریخی یادگار کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 12 ہزار یورو لگایا گیا ہے۔
ہسپانوی خبر رساں ادارے یوروپا پریس کے مطابق قومی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ واقعے میں ملوث نوجوان کی شناخت انٹرپول کے ذریعے مکمل کی گئی۔ پولیس نے ملزم کی شناخت سے متعلق معلومات ڈیوٹی جج کو فراہم کر دی ہیں۔ اب جج یہ فیصلہ کریں گے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیا جائے یا اس کی گرفتاری میں مدد کے لیے متعلقہ حکام کو عدالتی درخواست بھیجی جائے۔
یہ واقعہ 28 اگست کو شام چار سے پانچ بجے کے درمیان پیش آیا، جب پانچ نوجوان الحمرا کے تاریخی احاطے میں واقع شاہی محلِ کارلوس پنجم کے سامنے پارکور کی مشق کر رہے تھے۔ پارکور ایک جسمانی سرگرمی ہے جس میں دیواروں، رکاوٹوں، ریلنگ اور مختلف اونچائیوں کو چھلانگ لگا کر عبور کیا جاتا ہے۔
مشق کے دوران گروپ کے ایک نوجوان نے ایک ستون کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دیا، جس سے تاریخی یادگار کو نقصان پہنچا۔ وہاں موجود سیاحوں نے یادگار کے عملے کو واقعے کی اطلاع دی، لیکن نوجوان تیزی سے پورٹا دے لوس کاروس کے راستے فرار ہوگئے۔ اس وقت ان کی گرفتاری ممکن نہیں ہو سکی تھی۔
تاریخی مقام پر نصب نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوا کہ واقعے کے وقت وہاں پانچ نوجوان موجود تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ ان میں سے بعض غیر ملکی شہری ہو سکتے ہیں۔
الحمرا کے انتظامی ادارے کی جانب سے شکایت درج کرانے کے بعد قومی پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور مشتبہ نوجوان کی شناخت کے لیے ضروری کارروائی مکمل کی۔
الحمرا کے ادارے کے ماہر تعمیرات نے متاثرہ ستون کو پہنچنے والے نقصان کی مالیت 12 ہزار یورو مقرر کی ہے۔ یہ ستون یادگار کے اس حصے میں واقع ہے جو عام لوگوں کے لیے بند ہے۔
