بارسلونا، کاتالونیا کی ہائی کورٹ (TSJC) نے ویلا دی کانس (Viladecans) کی بلدیہ کی جانب سے مقامی قبرستان میں اسلامی طریقۂ تدفین کے لیے جگہ مختص کرنے سے انکار کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ انتظامی کارروائی کے لیے بھیج دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ مناسب تکنیکی تحقیقات اور ٹھوس شواہد کے بغیر مسلمانوں کو دوسرے علاقے کے قبرستان میں تدفین پر مجبور کرنے کا فیصلہ مذہبی آزادی کے حق سے متصادم ہو سکتا ہے۔
یہ معاملہ ایک شہری کی درخواست پر سامنے آیا، جس نے اپنے بیٹے کو اسلامی طریقۂ تدفین کے مطابق مقامی قبرستان میں دفن کرنے کے لیے جگہ طلب کی تھی۔ بلدیہ نے اکتوبر 2022 اور فروری 2023 میں درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ قبرستان میں جگہ محدود ہے اور اسلامی تدفین کے لیے زیادہ جگہ درکار ہوتی ہے۔ متبادل کے طور پر انتظامیہ نے ایل پاپیول میں واقع علاقائی قبرستان روکیس بلانکس میں تدفین کی تجویز دی تھی۔
عدالت کے مطابق مذہبی عقائد کے مطابق باعزت تدفین مذہبی آزادی کا حصہ ہے، جسے ہسپانوی آئین کی دفعہ 16.1 اور متعلقہ قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ مذہبی آزادی مطلق حق نہیں اور صحتِ عامہ سمیت دیگر قانونی تقاضوں کے تحت اس پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کا مناسب جواز موجود ہو۔
فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ بلدیہ نے جگہ کی کمی کا حوالہ تو دیا، لیکن قبرستان کی دستیاب زمین، شہری منصوبہ بندی، زیرِ زمین پانی اور مٹی کی موزونیت سے متعلق ضروری تکنیکی اور ہائیڈروجیولوجیکل رپورٹس پیش نہیں کیں۔
اب بلدیہ کو ان امور کا باقاعدہ جائزہ لے کر درخواست پر نیا اور قانونی طور پر مدلل فیصلہ کرنا ہوگا۔ عدالت نے فی الحال اسلامی تدفین کے لیے جگہ مختص کرنے کا حتمی حکم نہیں دیا۔
واضح رہے کہ فروری 2026 میں بھی کاتالونیا کی ہائی کورٹ نے موییت دیل بایئس کی بلدیہ کے ایک ملتے جلتے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔ تازہ فیصلہ کاتالونیا میں اسلامی تدفین کے انتظامات اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے متعلق جاری قانونی بحث میں اہم پیش رفت ہے۔
