میڈرڈ (دوست نیوز)اسپین میں موسمِ گرما 2026 کے دوران شدید گرمی کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد گزشتہ دس برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ کارلوس سوم ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ (ISCIII) کے روزانہ اموات کی نگرانی کرنے والے نظام ’مومو‘ (MoMo) کے تخمینے کے مطابق، 15 مئی سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان گرمی سے منسوب اموات کی تعداد 5 ہزار 807 ریکارڈ کی گئی۔
یہ تعداد گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں اسی عرصے کے دوران گرمی کی شدت سے منسوب 3 ہزار 832 اموات کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 2 ہزار 42 تھی۔ اس طرح 2026 میں اموات کی تخمینی تعداد 2025 کے مقابلے میں 51.6 فیصد اور 2024 کے مقابلے میں 184.4 فیصد زیادہ رہی۔
رپورٹ کے مطابق، شدید گرمی کے اثرات سے سب سے زیادہ بزرگ افراد متاثر ہوئے۔ گرمی سے منسوب مجموعی اموات میں سے تقریباً 97 فیصد افراد کی عمریں 65 سال یا اس سے زیادہ تھیں، جبکہ 62 فیصد اموات 85 سال سے زائد عمر کے افراد میں ہوئیں۔ مجموعی طور پر خواتین کی اموات کا تناسب 60 فیصد رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق، گرمی سے منسوب اموات میں 3 ہزار 486 خواتین اور 2 ہزار 321 مرد شامل تھے۔ جغرافیائی اعتبار سے جزیرہ نما اسپین کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں اموات کی شرح زیادہ دیکھی گئی۔
مہینوں کے اعتبار سے اگست سب سے زیادہ متاثر کن رہا، جب 2 ہزار 162 اموات کا تخمینہ لگایا گیا۔ جولائی میں 2 ہزار 26، جون میں 938، ستمبر میں 559 اور مئی کے دوسرے نصف حصے میں 123 اموات گرمی سے منسوب کی گئیں۔
کارلوس سوم ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے ان اعداد و شمار کی روشنی میں مسلسل وبائیاتی نگرانی اور شدید گرمی کے اثرات سے بچاؤ کے اقدامات مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ادارے کے مطابق، اس موسمِ گرما میں اسپین کو غیرمعمولی موسمی حالات کا سامنا رہا، جن میں محکمہ موسمیات (AEMET) کی جانب سے شناخت کی گئی گرمی کی چار لہریں، ستمبر کے آغاز میں ایک اضافی گرمی کی لہر، مسلسل خشک سالی، بڑے جنگلاتی آتش زدگی کے واقعات اور مغربی بحیرۂ روم میں سمندری گرمی کی شدید لہر شامل ہیں۔
