میڈرڈ( 15 اکتوبر 2026 دوست نیوز)اسپین میں ہونے والے ایک نئے سروے کے مطابق تقریباً نصف بالغ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن یا لڑکپن میں سزا کے طور پر تھپڑ یا مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 17 فیصد افراد نے کم عمری میں ناپسندیدہ جنسی لمس، بوسوں یا جسمانی رابطے کا تجربہ کیا۔ یہ نتائج اسپین کے مرکز برائے سماجی تحقیقات (CIS) کی جانب سے بچوں کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک سے متعلق جاری کیے گئے پہلے جامع مطالعے میں سامنے آئے ہیں، جس کے لیے 6 ہزار سے زائد بالغ افراد سے رائے لی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 48.6 فیصد افراد نے بتایا کہ انہیں بچپن یا نوعمری میں سزا کے طور پر تھپڑ یا مارا پیٹا گیا۔ 32.5 فیصد نے کہا کہ انہیں ڈرانے یا نقصان پہنچانے کے لیے مارا گیا، دھکے دیے گئے، بال کھینچے گئے یا ان پر چیزیں پھینکی گئیں۔ مزید 17.3 فیصد افراد کو لاتیں مارنے یا شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
جنسی تشدد کے حوالے سے تقریباً 30 فیصد افراد نے بتایا کہ انہیں کم عمری میں جنسی نوعیت کے ایسے تبصروں، اشاروں یا رویوں کا سامنا کرنا پڑا جن سے وہ بے آرام ہوئے۔ جبکہ 8.8 فیصد کو اپنی مرضی کے خلاف کسی دوسرے شخص کے جسم کے نجی حصوں کو چھونے یا دیگر جنسی اعمال پر مجبور کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق جسمانی سزا کے حوالے سے معاشرتی برداشت میں کمی آئی ہے، تاہم جذباتی اور جنسی تشدد اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر روک تھام، جنسی و جذباتی تعلیم اور متعلقہ پیشہ ور افراد کی تربیت ضروری ہے۔
سروے میں انکشاف ہوا کہ 35 فیصد افراد نے بچپن میں اپنی عمر سے بڑھ کر ذمہ داریاں اٹھائیں، جبکہ 31.8 فیصد نے اہم جذباتی، تعلیمی یا ذاتی مسائل کے دوران خود کو نظرانداز کیے جانے کا تجربہ کیا۔
انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق سوالات میں 40 سال یا اس سے کم عمر افراد میں ایک چوتھائی سے زیادہ نے آن لائن گالم گلوچ، ہراسانی یا دھمکیوں کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔ مزید برآں، 64.2 فیصد افراد کا خیال ہے کہ سرکاری ادارے بچوں اور نوعمروں کے تحفظ کے لیے بہت کم یا بالکل توجہ نہیں دیتے۔
