بارسلونا( 16 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز) کاتالونیا کے محکمہ مساوات و حقوقِ نسواں نے آج بارسلونا یونیورسٹی کے تاریخی ہال (Paranimf) میں کاتالونیا میں خواتین کے اجلاسوں کی 50ویں سالگرہ منائی۔ اس تقریب میں حقوقِ نسواں کی تحریک سے وابستہ ماضی کی اہم شخصیات اور موجودہ دور کی نمائندہ خواتین نے شرکت کی۔
اس تقریب کا مقصد خواتین کی تحریک کے تاریخی مطالبات کو موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کے ساتھ جوڑنا تھا۔ کاتالونیا کی وزیر برائے مساوات و حقوقِ نسواں ایوا مینور کانتادور نے خواتین کی جدوجہد کو تسلیم کرنے، حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہنے اور یہ یاد رکھنے کی اہمیت پر زور دیا کہ عملی مساوات کا حصول ابھی ایک نامکمل کام ہے۔
تقریب کے افتتاحی خطاب میں مؤرخہ میری نیش بالدون نے حقوقِ نسواں کی تحریک کے گزشتہ 50 سال کا جائزہ پیش کیا۔ وہ اسپین میں خواتین کی تاریخ کو ایک باقاعدہ علمی موضوع کے طور پر متعارف کرانے والی اہم شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔
اس کے بعد وکیل اور سیاست دان مگدا اورانیچ ای سولاگران اور حقوقِ نسواں کی کارکن انا مرکادے ای فیراندو نے ایک مکالمے میں حصہ لیا۔ دونوں خواتین نے 1976ء کے اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔ گفتگو میں اس وقت اٹھائے گئے سوالات اور مطالبات کی موجودہ دور میں اہمیت کا جائزہ لیا گیا۔
تقریب کے دوران مختلف موضوعات پر گول میز مباحثے بھی منعقد ہوئے، جن میں صحت، جنسی و تولیدی حقوق، شہری حقوق کے لیے جدوجہد، خواتین کے حقوق، تعلیم اور ملازمت سے متعلق حقوق شامل تھے۔
ان مباحثوں میں معروف ماہرین اور خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکنوں نے شرکت کی، جن میں کارم والس ای لوبیت، راکیل ریبا روسی (لولا وینڈیٹا)، مرینا سوبیراتس اور کارلا گالیوتے سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔
اس یادگاری تقریب کے موقع پر „Ressonàncies de 1976: la veu de les dones avui“ کے عنوان سے ایک کتاب بھی پیش کی گئی، جس کا مفہوم ہے: 1976ء کی بازگشت: آج کی خواتین کی آواز۔ اس کے علاوہ „Dones i participació política a Catalunya 1965-1982“ کے عنوان سے ایک نمائش بھی متعارف کرائی گئی، جس میں 1965ء سے 1982ء کے دوران کاتالونیا میں خواتین کی سیاسی شرکت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ان دونوں اقدامات کا مقصد خواتین کی تحریک کی تاریخ کو محفوظ کرنا اور حقوق و مساوات کے لیے خواتین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
1976ء کے تاریخی اجلاسوں میں تقریباً 4 ہزار خواتین نے شرکت کی تھی۔ یہ اجلاس اسپین میں آمریت کے خاتمے اور جمہوری انتقال کے دور میں عوامی شرکت کے لیے کھولے جانے والے ابتدائی اہم اجتماعات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں خواتین نے ملازمت، اپنے جسم پر اختیار، جنسی آزادی، سیاست، قانون سازی اور تعلیم سمیت متعدد معاملات پر اپنے مطالبات اجتماعی طور پر پیش کیے تھے۔
