29 نومبر کے انتخابات سے قبل بائیں بازو کی جماعتوں میں اختلافات گہرے، پودیموس اور فرنٹے آمپلیو کے درمیان انتخابی اتحاد کی کوششیں ناکام
میڈرڈ( 18 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز) اسپین میں بائیں بازو کی جماعتیں 29 نومبر کے انتخابات کے لیے وسیع انتخابی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم فرنتے آمپلیو (Frente Amplio) اور پودیموس (Podemos) کے درمیان اختلافات نے اس منصوبے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں دونوں جماعتیں صرف کینری جزائر اور ویلنشیا کی خودمختار کمیونٹی میں مشترکہ طور پر انتخابات میں حصہ لیں گی، جبکہ دیگر بیشتر انتخابی حلقوں میں الگ الگ میدان میں اتریں گی۔
یہ صورتِ حال 2023ء کے انتخابات سے مختلف ہے، جب یولاندا دیاز کی قیادت میں سُومار (Sumar) کے پلیٹ فارم پر بائیں بازو کی اہم جماعتوں نے آخری وقت میں انتخابی اتحاد قائم کرلیا تھا۔
پودیموس کا مؤقف ہے کہ کئی علاقوں میں انتخابی معاہدے اس لیے طے نہیں ہوسکے کیونکہ فرنتے آمپلیو ایک وسیع قومی معاہدہ چاہتا تھا، جس میں کاتالونیا بھی شامل ہوتا۔ اس سے پودیموس اور کاتالان جماعت ERC کے درمیان پہلے سے موجود معاہدہ متاثر ہوسکتا تھا۔ میڈرڈ میں بھی پودیموس اپنی الگ فہرست پیش کرنا چاہتا تھا، جس کی قیادت آئرین مونتیرو کرسکتی تھیں۔
دوسری جانب، فرنتے آمپلیو کا کہنا ہے کہ اس نے پودیموس کو اتحاد میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور میڈرڈ و بارسلونا میں اہم انتخابی مقامات کی پیشکش بھی کی، لیکن اتفاقِ رائے ممکن نہیں ہوسکا۔
2023ء میں سُومار کی تشکیل یولاندا دیاز کی سیاسی قیادت اور مقبولیت کے گرد ہوئی تھی، جبکہ اس مرتبہ حکومت میں شامل چار جماعتوں نے مشترکہ طور پر فرنتے آمپلیو کی بنیاد رکھی ہے۔ اس اتحاد کا مقصد کسی ایک رہنما پر انحصار کرنے کے بجائے جماعتوں کے درمیان مشترکہ تعاون کا نظام قائم کرنا ہے۔
فرنتے آمپلیو نے سابق میئر بارسلونا آدا کولاؤ کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ وہ بارسلونا سے انتخاب لڑیں گی، جبکہ میڈرڈ میں ایمیلیو دیلگادو فہرست کی قیادت کریں گے۔
کچھ اتحادی جماعتیں اب بھی چاہتی ہیں کہ پودیموس کو آزاد امیدواروں کی حیثیت سے انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ تاہم، دونوں منصوبوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ پودیموس نے کھلی پرائمری انتخابات کے ذریعے بائیں بازو کے مشترکہ امیدوار منتخب کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا، لیکن اس پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
یوں 29 نومبر کے انتخابات سے قبل بائیں بازو کی جماعتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے اختلافات کے باوجود ووٹروں کو متحد کرسکیں اور انتخابی میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکیں۔
