حکام کے مطابق آپریشن ہر ہفتے دہرایا جائے گا، بے دخل کیے جانے والوں میں بڑی تعداد نابالغوں کی بھی شامل ہے۔
سیوتا( 18 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز) اسپین کے شمالی افریقی شہر سیوتا (Ceuta) میں اتوار کی صبح ایک بڑے آپریشن کے دوران تقریباً 500 تارکینِ وطن کو مختلف عارضی بستیوں اور شہر کے مضافاتی علاقوں سے ہٹا دیا گیا۔ کارروائی میں 350 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا، جبکہ بے دخل کیے جانے والوں میں بڑی تعداد نابالغوں کی بھی بتائی گئی ہے۔
حکومت کے نمائندے دیود دے لا اینسینا کے مطابق، یہ کارروائیاں ہر ہفتے جاری رکھی جائیں گی، جب تک کھلے آسمان تلے سونے والے افراد کی موجودگی ختم نہیں ہو جاتی۔
آپریشن کا آغاز صبح سویرے ہوا اور اسے لاس روسالیس، پوبلادو دے ریگولاریس، تاراخال کے گوداموں، پرنسِپے محلے کے نچلے حصے اور تارکینِ وطن کے عارضی قیام کے مرکز (CETI) کے اطراف میں انجام دیا گیا۔
حکام کے مطابق، پہلے مرحلے میں لاس روسالیس اور پوبلادو دے ریگولاریس سے تقریباً 90 بالغ افراد، 20 نابالغ اور ایک خاتون کو تلاش کیا گیا۔ بعد ازاں تاراخال کے صنعتی علاقے میں کارروائی کی گئی، جہاں جھونپڑیوں پر مشتمل ایک عارضی بستی قائم تھی۔ حکومتی اندازوں کے مطابق، وہاں تقریباً 200 بالغ افراد اور 200 نابالغ موجود تھے۔
بالغ تارکینِ وطن کو شناخت اور اندراج کے لیے مخصوص مراکز میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جانے کی درخواست دینے کا اختیار حاصل ہے۔ نابالغوں کو سیوتا کی خودمختار انتظامیہ کے تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ ان کے متعلق قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
دیود دے لا اینسینا نے بتایا کہ آپریشن پُرامن انداز میں مکمل ہوا اور کسی ناخوشگوار واقعے یا طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ تاہم، بعض تارکینِ وطن حکام کی گرفت میں آنے سے بچنے کے لیے تاراخال کا علاقہ چھوڑ گئے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ان میں سے کچھ افراد شہر کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہوں گے۔
کارروائی کے بعد بلدیاتی صفائی کے عملے نے متاثرہ علاقوں سے کچرا ہٹانے اور صفائی کا کام شروع کر دیا۔
پوبلادو دے ریگولاریس میں تارکینِ وطن کے ساتھ رہنے والے مقامی باشندوں کی نمائندہ عائشہ محمد نے بے دخل کیے گئے افراد کی صورتحال پر توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی انسان ہیں اور اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
دوسری جانب، اتوار کی صبح تقریباً تین بجے بندرگاہ کے قریب کانونیرو داتو ایونیو میں ایک تارکِ وطن کو فوجی اہلکار کو دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، فوجی گشت کے دوران چند تارکینِ وطن کو دیکھ کر کم از کم چار افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ فوجیوں نے ایک شخص کو قابو کیا، جس نے مبینہ طور پر جیب سے دھار دار ہتھیار نکال کر ایک فوجی کو دھمکی دی۔ بعد ازاں قومی پولیس نے اسے تحویل میں لے لیا۔ اس کے خلاف دھار دار ہتھیار کے ذریعے سنگین دھمکیاں دینے کے مبینہ جرم کی کارروائی کی جا رہی ہے۔
