اسپین میں نوجوان ووٹرز کی ووکس کی جانب بڑھتی دلچسپی پر ماہرین کا اظہارِ تشویش، سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات اور خانہ جنگی و فرانکو دور کی تاریخ سے ناواقفیت کو اہم وجوہات قرار دے دیا گیا۔
میڈرڈ( 18 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز) اسپین میں نوجوانوں کے سیاسی رجحانات کے حوالے سے جاری ایک تازہ سروے نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس (Vox) کی بڑھتی مقبولیت کو نمایاں کیا ہے۔ ایل پائیس اور کیدینا سیر کے لیے ادارے 40dB کے تازہ انتخابی سروے کے مطابق، 18 سے 24 سال کی عمر کے 27.47 فیصد نوجوان ووکس کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سوشلسٹ پارٹی (PSOE) 21.02 فیصد کے ساتھ دوسرے جبکہ پاپولر پارٹی (PP) 12.92 فیصد حمایت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
سیاسیات، ابلاغ اور ثقافت کے ماہر اور سوشیالوجی کے استاد خوسے ماریا رامیریز کے مطابق، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم نوجوانوں کی سماجی اور سیاسی سوچ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر جذباتی اور توجہ حاصل کرنے والے مواد کی بھرمار نوجوانوں کی رائے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ویلنسیا یونیورسٹی کے ماہرِ تعلیم نیستور باندیرس کا کہنا ہے کہ بعض نوجوان موجودہ سماجی اقدار اور نظام سے مایوسی کے باعث ماضی کی جانب واپسی کے خیالات میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق، آج کے معاشرتی مسائل سے پیدا ہونے والی ناراضی بھی اس رجحان کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
اسپین کی خانہ جنگی اور سابق آمر فرانسسکو فرانکو کے دورِ حکومت کی تاریخ اسکولوں میں پڑھاتے ہوئے اساتذہ کو مختلف ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض طلبہ اس تاریخ کو جاننے میں گہری دلچسپی لیتے ہیں، جبکہ کچھ طلبہ پہلے سے قائم خیالات کی بنیاد پر منفی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
جغرافیہ اور تاریخ کی ایک ثانوی اسکول ٹیچر تامارا کے مطابق، بہت سے طلبہ گھر، سوشل میڈیا اور سیاسی طور پر منقسم ذرائع ابلاغ سے متاثر ہو کر کلاس روم میں آتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تاریخ صرف سنی سنائی باتوں پر نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر سمجھی جانی چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے وہ طلبہ کو تاریخی دستاویزات اور اصل ماخذ سے روشناس کراتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، نوجوانوں کے سیاسی رجحانات کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا کے اثرات، موجودہ سماجی مسائل اور تاریخ کی مؤثر تدریس، تینوں پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
