ماہرِ ڈیجیٹل حکمتِ عملی کے مطابق، سانچیز نے سوشل میڈیا پر اپنی الگ پہچان بنالی ہے، جبکہ فیخو پر ووکس کی حکمتِ عملی کی نقل کرنے کا رجحان غالب ہے۔
میڈرڈ( 18 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز) اسپین میں 29 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کو اپنی انتخابی مہم کا اہم میدان بنا لیا ہے۔ ڈیجیٹل حکمتِ عملی کے ماہر خوسے گابریئل گارسیا کے مطابق، سیاسی جماعتیں اب سوشل میڈیا کو محض سرکاری پیغامات کی تشہیر کا ذریعہ نہیں سمجھتیں، بلکہ ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے اور انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ماہر کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ ویوز، فالوورز اور لائکس حاصل کرنا ضروری نہیں کہ زیادہ ووٹ ملنے کی ضمانت بھی ہو۔ تاہم، یہ پلیٹ فارمز غیر فیصلہ شدہ ووٹرز کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گارسیا کے مطابق، وزیراعظم پیدرو سانچیز نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک منفرد اندازِ ابلاغ تشکیل دیا ہے، جس کے ذریعے وہ ہسپانوی سوشلسٹ ورکرز پارٹی (PSOE) کے روایتی اور رسمی انداز سے آگے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کی بعض سرگرمیوں، مثلاً اسپاٹیفائی پر موسیقی کی فہرستیں جاری کرنے، پر تنقید بھی ہوئی ہے۔
دوسری جانب، پاپولر پارٹی (PP) کے رہنما البرتو نونیز فیخو اب بھی سوشل میڈیا پر اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہر کے مطابق، بعض مواقع پر ان کی جماعت ووکس کے پہلے سے استعمال ہونے والے انداز کو اپناتی دکھائی دیتی ہے، جو طویل مدت میں مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہونا ضروری نہیں۔
ماہر کے مطابق، انتخابی مباحثے اب ٹیلی ویژن پروگرام ختم ہونے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ مباحثوں کے مختصر ویڈیو کلپس کئی دن تک سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہتے ہیں، جہاں ہر جماعت اپنے امیدوار کے حق میں مخصوص لمحات کو نمایاں کرکے عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔
گارسیا نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم زیادہ ردعمل حاصل کرنے والے مواد کو زیادہ لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس دوڑ میں سنجیدہ سیاسی تجاویز کے مقابلے میں متنازع اور تقسیم پیدا کرنے والے پیغامات کو زیادہ توجہ ملنے کا خطرہ ہے۔
انہوں نے سیاسی انفلوئنسرز کے استعمال پر بھی احتیاط کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، اگر نوجوانوں کو محسوس ہو کہ کسی انفلوئنسر کا پیغام مصنوعی یا معاوضے کے بدلے دیا گیا ہے تو اس کا نتیجہ الٹا نکل سکتا ہے۔
ماہر کا کہنا ہے کہ 29 نومبر کے انتخابات میں اصل کامیابی صرف سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس مقبولیت کو حقیقی انتخابی شرکت اور ووٹوں میں تبدیل کرنا ہوگی۔
