میڈرڈ( 18 اکتوبر 2026۔ ترجمہ دوست نیوز)اسپین میں سردیوں کے وقت کی واپسی کے لیے گھڑیاں آئندہ ہفتے کی رات تبدیل کی جائیں گی۔ ہفتہ اور اتوار، 25 اکتوبر کی درمیانی شب صبح 3 بجے گھڑی ایک گھنٹہ پیچھے کرکے 2 بجے کر دی جائے گی۔ یہ تبدیلی 2022 سے اب تک کے اوقات سے متعلق وزارتی حکم نامے میں شامل آخری تبدیلی ہے، تاہم امکان ہے کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اسپین نے گزشتہ سال یورپی یونین میں وقت کی تبدیلی ختم کرنے کی بحث دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔
اس معاملے پر ماہرین کی آرا مختلف ہیں۔ یونیورسٹی آف سیویا کے ماہرِ طبیعیات خوسے ماریا مارتن اولایا اور یونیورسٹی آف سانتیاگو دے کومپوستیلا کے ماہرِ طبیعیات خورخے میرا پیریز موسمی تبدیلی برقرار رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ ہسپانوی اوقات کو بہتر بنانے کی انجمن (ARHOE) سال بھر سردیوں کا وقت برقرار رکھنے کی حمایت کرتی ہے۔
خورخے میرا پیریز کے مطابق، وقت کی موسمی تبدیلی دراصل معاشرتی نظام کو منظم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف موسموں والے ملک میں ایک ہی وقت کو پورے سال کے لیے مقرر کرنا مناسب نہیں۔ اگر اسپین میں سال بھر سردیوں کا وقت برقرار رکھا جائے تو مشرقی ساحلی علاقوں میں سال کے چار ماہ کے دوران سورج صبح پانچ سے چھ بجے کے درمیان طلوع ہوگا۔ اس کے برعکس، گرمیوں کا وقت مستقل رکھنے سے چار ماہ تک سورج صبح نو یا دس بجے طلوع ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، خوسے ماریا مارتن اولایا کا کہنا ہے کہ اسپین میں طویل عرصے سے وقت کی تبدیلی کا نظام رائج ہے اور اس کے خلاف شکایات محدود ہیں۔ ان کے مطابق، اسپین، پرتگال، یونان اور مالٹا کے موسمی حالات فن لینڈ اور سویڈن سے مختلف ہیں، اس لیے پورے یورپ کے لیے ایک ہی پالیسی مناسب نہیں ہوگی۔
تاہم، ARHOE کے اعزازی صدر سیزر مارتن وقت کی تبدیلی ختم کرکے اکتوبر والا وقت مستقل کرنے کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق، اس سے صحت، نیند، تعلیمی کارکردگی اور کام کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقل وقت جسمانی حیاتیاتی نظام کو زیادہ مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین اور اسپین کی متعلقہ وزارت کے مطابق وقت کی تبدیلی سے توانائی کی خاطرخواہ بچت ثابت نہیں ہوئی۔ ان کے نزدیک اسپین کا موجودہ ٹائم زون بھی حیاتیاتی گھڑی کے لیے اضافی مسائل پیدا کرتا ہے۔
فی الحال یورپی یونین میں وقت کی تبدیلی ختم کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
