میڈرڈ: اسپین کے قانونِ جمہوری یادداشت (Ley de Memoria Democrática)، جسے عام طور پر ’’قانونِ پوتے پوتیوں‘‘ کہا جاتا ہے، کے تحت ہسپانوی شہریت کی درخواستوں نے دنیا بھر میں اسپین کے قونصل خانوں پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ صرف ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں 2 لاکھ 30 ہزار درخواست گزاروں کی دستاویزات کا وزن 66 ٹن، یعنی تقریباً ایک کروڑ 32 لاکھ صفحات تک پہنچ چکا ہے۔
درخواستوں کے انبار کی وجہ سے بیونس آئرس میں اسپین کے قونصل خانے کو ایک سابق ثقافتی مرکز کو دستاویزات کے گودام میں تبدیل کرنا پڑا ہے۔ شہر میں تقریباً 6 لاکھ 45 ہزار افراد نے شہریت کے لیے درخواست دینے میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ بیشتر افراد ابھی تک اپنی دستاویزات جمع کرانے کے لیے تاریخ ملنے کے منتظر ہیں۔ اندازہ ہے کہ درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ 2031 تک جاری رہ سکتا ہے اور موجودہ رفتار کے مطابق بعض معاملات نمٹانے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
یہ بحران کیوبا، وینزویلا، میکسیکو، چلی اور برازیل کے ہسپانوی قونصل خانوں میں بھی موجود ہے۔
ہسپانوی سفارتی ذرائع کے مطابق وزارتِ انصاف کی اعلیٰ عہدیدار صوفیہ پوئنٹے کی اکتوبر 2022 میں جاری کردہ ہدایات نے اس بحران میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہدایات کے تحت 18 جولائی 1936 سے 31 دسمبر 1955 کے درمیان اسپین چھوڑنے والے افراد کو سیاسی، نظریاتی یا جنسی شناخت کی بنیاد پر جلاوطن تصور کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی، جس سے ان کی اولاد کے لیے شہریت حاصل کرنا آسان ہوگیا۔
ہسپانوی سفارت کاروں کی ایسوسی ایشن کے مطابق اصل قانون پر سختی سے عمل ہوتا تو درخواستوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ رہتی، جبکہ حقیقت میں اکتوبر 2022 سے اکتوبر 2025 تک 24 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے قانون کے تحت شہریت حاصل کرنے والے بعض افراد کے حقِ رائے دہی کی عارضی معطلی برقرار رکھی ہے۔ اس فیصلے سے ایک لاکھ 63 ہزار 20 افراد متاثر ہوئے ہیں، جن کے معاملات کا دوبارہ جائزہ قونصل خانوں کو لینا ہوگا۔
قونصل خانوں نے عملے اور وسائل کی کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی ذمہ داریوں کے باعث پہلے سے موجود کام مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ سفارتی حکام کے مطابق حکومت اور عدلیہ کے فیصلوں کے درمیان عام شہری اور قونصل خانوں کا عملہ دونوں مشکلات کا شکار ہیں۔
