سوشلسٹوں کے گھر ایکستریمادورا سے فَیخوؤ نے فتح چھین لی،ووکس بھی اپنا رنگ دکھا گئی
Screenshot
میڈرڈ، 21 دسمبر (دوست مانیٹرنگ ڈیسک)پاپولر پارٹی (پی پی) کے سربراہ البرتو نونیز فَیخوؤ نے ایکستریمادورا کے انتخابات میں سوشلسٹ پارٹی (پی ایس او ای) کی تاریخی شکست کے بعد وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کو سیاسی طور پر سخت دھچکا تو دیا ہے، تاہم وہ ووکس کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ سانتیاگو اباسکال کی جماعت ووکس نے اس خطے میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی نمائندگی 5 سے بڑھا کر 11 نشستوں تک پہنچا دی ہے اور آئندہ قانون سازی میں کلیدی کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
پی پی کی امیدوار اور موجودہ صدر ماریہ گواردیولا نے انتخابات میں 29 نشستیں اور 43 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹی، جو مئی 2023 کے مقابلے میں ایک نشست اور چار فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے۔ تاہم وہ چار نشستوں کی کمی کے باعث واضح اکثریت حاصل نہ کر سکیں، جبکہ ووٹوں کی تعداد بھی گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں تقریباً 20 ہزار کم رہی۔
دوسری جانب پی پی ووکس کے ابھار کو روکنے میں ناکام رہی، جس کے باعث توقع کی جا رہی ہے کہ ووکس آئندہ مذاکرات میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرے گی۔ انتخابی مہم کے دوران ووکس قیادت بار بار یہ کہتی رہی کہ گواردیولا کو ان کے مطالبات ماننا ہوں گے، خصوصاً گرین پیکٹ اور امیگریشن جیسے معاملات پر۔
یہ کامیابی پی پی کے لیے ایک طرح سے کڑوی جیت ثابت ہوئی، کیونکہ 2026 میں ہونے والے آئندہ علاقائی انتخابات (اراگون، کاستیا و لیون اور اندلس) کے تناظر میں ووکس کا ابھار سوشلسٹوں کو انتخابی مہم میں نئی دلیل فراہم کر سکتا ہے۔
انتخابی رات کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے ووکس اور یونیداس پور ایکستریمادورا رہے۔ ووکس نے چھ نشستوں کا اضافہ کرتے ہوئے 16.9 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ یونیداس پور ایکستریمادورا نے سات نشستیں جیتیں، جو دو سال قبل کے مقابلے میں تین زیادہ ہیں، اور اسے 10.25 فیصد ووٹ ملے۔
دونوں جماعتوں نے پی ایس او ای کے زوال سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا، ایک ایسی مہم میں جو پارٹی کو درپیش بدعنوانی اور جنسی ہراسانی کے الزامات، خصوصاً فرانسسکو سالازار کے کیس، کے گرد گھومتی رہی۔
فَیخوؤ کی ٹیم کے ذرائع نے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دائیں بازو کی جماعتوں نے اس خطے میں 60 فیصد ووٹ حاصل کیے، جو تاریخی طور پر پی ایس او ای کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق سوشلسٹوں کی شکست کی اصل ذمہ داری پیدرو سانچیز پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ امیدوار میگل آنخل گیاردو پر۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ “یہ شکست گیاردو کی نہیں بلکہ پیدرو سانچیز کی ہے۔ تمام جماعتوں کے ووٹ بڑھے ہیں، سوائے سانچیز کی جماعت کے۔” پی پی نے تقریباً چار فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا، جبکہ پی ایس او ای کو قریب 14 فیصد پوائنٹس کا نقصان ہوا۔
پی پی قیادت کے مطابق ایکستریمادورا جیسے تاریخی سوشلسٹ گڑھ میں اقتدار حاصل کرنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پارٹی کے اندر اس کا موازنہ اس بات سے کیا جا رہا ہے کہ اگر پی پی گالیسیا یا مرسیا جیسے اپنے مضبوط علاقوں میں اقتدار کھو دے تو کیا صورت حال ہو گی۔ “اگر وہ ایکستریمادورا میں نہیں ٹک سکتے تو پھر کہاں ٹکیں گے؟” فَیخوؤ کی ٹیم میں یہ سوال زیرِ بحث ہے۔
فَیخوؤ نے انتخابی مہم کے دوران پانچ دن ایکستریمادورا میں گزارے اور دو بڑے جلسوں میں اپنی امیدوار کی حمایت کی۔ انہوں نے ان انتخابات کو قومی سیاست کے تناظر میں “سانچیز دور کے خاتمے کی ابتدا” اور “اسپین کے لیے تبدیلی اور امید کا پیغام” قرار دیا۔
پی پی کے سربراہ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ماریہ گواردیولا کو کامیابی پر مبارکباد دی اور ان کی چار اعشاریہ چار فیصد سے زائد کی پیش رفت اور پی ایس او ای پر تقریباً 18 فیصد پوائنٹس کی برتری کو سراہا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، “پی ایس او ای کی شکست بہت بڑی ہے۔ آج کی تاریخی ہار کے بعد ہم اگلی بڑی انتخابی رات کی تیاری شروع کر چکے ہیں۔ 8 فروری کو ہم دوبارہ کامیابی کے لیے کام کریں گے، اور اس دن پیدرو سانچیز کو وزیرِاعظم نہیں رہنا چاہیے۔”