بادالونا میں بی-نائن سے بے دخل افراد کے معاملے پر کشیدگی
Screenshot
بادالونا میں پیر 22 دسمبر کی شام سابقہ میونسپل شیلٹر کان بوفی ویل کے سامنے دو متضاد موقف رکھنے والے گروہوں کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی۔ یہ صورتحال سابقہ انسٹی ٹیوٹ بی-نائن سے بے دخل کیے گئے افراد کے معاملے کے تناظر میں پیدا ہوئی۔
ایک جانب سماجی کارکنوں اور کچھ مقامی شہریوں نے تارکینِ وطن کے حق میں مظاہرہ کیا اور باعزت رہائش کے مطالبے کیے۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگائے گئے جن میں “کوئی غیر قانونی نہیں” اور “البیول فاشسٹ” شامل تھے، جن کا اشارہ بادالونا کے میئر زیویئر گارسیا البیول کی طرف تھا۔
دوسری طرف ایک اور گروہ نے ان بے دخل افراد کی شہر میں موجودگی کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے سلامتی اور محلّے کے امن و سکون کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، خصوصاً سانت کرست کے علاقے میں، جہاں ماری دے دیو دے مونتسیرات کی پیرش کو عارضی رہائش کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے موسوس پولیس نے دونوں گروہوں کے درمیان حفاظتی حصار قائم رکھا، جس کے باعث حالات قابو میں رہے۔
یہ احتجاج اتوار کی رات کے واقعے کے بعد سامنے آیا، جب کچھ مقامی افراد نے بی-نائن سے بے دخل 15 تارکینِ وطن کو پیرش میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس اقدام کے باعث سماجی تنظیموں کی جانب سے تیار کیا گیا ہنگامی رہائشی انتظام نافذ نہ ہو سکا۔ مقامی افراد کا دعویٰ تھا کہ بے دخل افراد نے سابقہ میونسپل شیلٹر پر قبضہ کیا تھا اور مسائل پیدا کیے تھے۔
یہ تنازع بادالونا میں اس وسیع تر تناؤ کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک طرف شہری سلامتی کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں اور دوسری طرف سماجی تنظیمیں کمزور حالات میں موجود تارکینِ وطن کے رہائشی حقوق کے تحفظ کی بات کر رہی ہیں۔
میئر زیویئر گارسیا البیول نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بے دخل افراد کے لیے محلّے سے باہر متبادل رہائش تلاش کی جائے گی۔ ان کے مطابق وہ کاتالونیا کی وزیر برائے سماجی حقوق مونیکا مارتینیز براوو کے ساتھ مل کر ایسے حل پر کام کریں گے جس سے متاثرہ علاقوں میں کشیدگی کم ہو سکے۔
دوسری جانب، تارکینِ وطن نے کاتالونیا کے صدر سالوادور ایلا کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے کان بوفی ویل میں پناہ کے اپنے حق کا دفاع کیا۔ خط میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور انہوں نے مؤثر متبادل انتظامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ سڑک پر بے یار و مددگار نہ رہ جائیں۔