غیر ملکی میڈیا نے شہزادی لیونور کو جنریشن زیڈ کی “حتمی شاہی وارث” قرار دے دیا

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ(دوست نیوز)صرف 20 برس کی عمر میں اسپین کے بادشاہ فلپ ششم اور ملکہ لیتیزیا کی صاحبزادی، شہزادی لیونور، یورپ کے نوجوان شاہی وارثوں میں ایک نمایاں اور بااثر شخصیت بن کر ابھری ہیں۔ ان کی فوجی تربیت، بڑھتی ہوئی سرکاری ذمہ داریاں اور اہم تقریبات میں پراعتماد موجودگی نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

برطانوی جریدے ٹیٹلر نے شہزادی لیونور کو یورپی شاہی خاندانوں میں جنریشن زیڈ کی سب سے نمایاں نمائندہ قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے ہم عصر نوجوان وارثوں میں “حتمی شاہی وارث” کا لقب دیا ہے۔ جریدے کے مطابق وہ دیگر نوجوان ولی عہدوں پر واضح برتری رکھتی ہیں جو آئندہ برسوں میں تخت سنبھالنے والے ہیں۔

Screenshot

یہ مضمون پیر 22 دسمبر کو شائع ہوا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شہزادی لیونور نے محض اپنے شاہی منصب کے باعث نہیں بلکہ عملی تیاری، ادارہ جاتی فہم اور فوجی تربیت کے ذریعے بھی خود کو مستقبل کے کردار کے لیے موزوں ثابت کیا ہے۔ 2023 میں آئین پر حلف اٹھانے کے بعد وہ اپنی قانونی بلوغت سے ہی مستقبل کی ملکہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔

ٹیٹلر نے یورپ کے دیگر نوجوان شاہی وارثوں جیسے ڈنمارک کے شہزادہ کرسچین اور نیدرلینڈز کی شہزادی کیٹرینا امالیا سے موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ سب اپنے والدین سے رہنمائی لے رہے ہیں، تعلیم اور تربیت کے مراحل سے گزر رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان میں سب سے زیادہ اہل کون ہے؟ اس کا جواب جریدے کے مطابق اسپین کی 20 سالہ شہزادی لیونور ہیں، جو انیسویں صدی میں اپنی پردادی ملکہ ازابیل دوم کے بعد اسپین کی پہلی بااختیار ملکہ ہوں گی۔

مضمون میں شہزادی کی فوجی تربیت پر خاص توجہ دی گئی، خصوصاً ان کا وہ حالیہ سنگ میل جب انہوں نے 18 دسمبر کو ایئر اینڈ اسپیس اکیڈمی میں تربیت کے دوران پائلاٹس پی سی-21 طیارے میں پہلی مرتبہ تنہا پرواز مکمل کی۔ جریدے نے اس لمحے کو مستقبل کے لیے مضبوط ہاتھوں والی شاہی نسل کی علامت قرار دیا۔

شہزادی لیونور کی تربیت صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہی۔ وہ زرگوزا کی جنرل ملٹری اکیڈمی، بحری تربیت کے دوران خوان سباستیان ایلکانو پر پانچ ماہ کی خدمات، اور اب فضائیہ کی تربیت سے گزر رہی ہیں۔ وہ یہ تمام خدمات “بوربون اورتیز” کے نام سے انجام دے رہی ہیں، جو ان کے خاندانی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔

جریدے کے مطابق یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہزادی لیونور یورپ کی سب سے زیادہ اہل نوجوان شاہی شخصیت ہیں۔ کم عمری ہی سے انہوں نے سرکاری تقاریب میں آئین کے اقتباسات پڑھ کر، ثقافتی تقریبات کی میزبانی کر کے، اور پاسکوا ملٹری سمیت بین الاقوامی مواقع پر شرکت کر کے غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کیا۔

ٹیٹلر کے مطابق 2024 شہزادی لیونور کے لیے “عروج کا سال” ثابت ہوا۔ اسی سال وہ فوجی اکیڈمی کی 44ویں کلاس کی حلف برداری کی 40ویں سالگرہ کی تقریبات میں شاہانہ وقار کی علامت بنیں۔ انہوں نے پرتگال کا پہلا تنہا سرکاری دورہ کیا، اور اسی برس پہلی مرتبہ پرنسس آف آستوریاس ایوارڈز کے فاتحین کے اعزاز میں تقاریر بھی کیں۔

جریدے کا کہنا ہے کہ بادشاہ فلپ کی طویل شاہی روایت اور ملکہ لیٹیزیا کی صحافتی بصیرت کے امتزاج کے باعث یہ حیران کن نہیں کہ شہزادی لیونور کو “جنریشن زیڈ کی ستارہ شخصیت” قرار دیا جا رہا ہے۔ فوجی تربیت کے اختتام کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی شاہی امور کے مبصرین اب بے چینی سے ان کے اگلے اقدامات کے منتظر ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے