بارسلونا سےفلسطین کے لئے بڑی انسانی بحری مہم،عالمی خاموشی کو بے نقاب کیا جائے گا،صمود فلوٹیلا
Screenshot
فلوٹیلا گلوبل صمود نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہار 2026 میں فلسطین کے لیے اب تک کی سب سے بڑی منظم شہری بحری کارروائی کا آغاز کرے گی۔ اس مشن کے تحت 100 بحری جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا کے ذریعے انسانی امداد غزہ پہنچائی جائے گی، جس میں 100 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 3,000 سے زیادہ افراد شریک ہوں گے۔
یہ اعلان پیر کے روز ایک بیان میں کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام گزشتہ اکتوبر میں اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا کی سابقہ کارروائی کو روکے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں گریٹا تھنبرگ اور ادا کولو سمیت معروف شخصیات نے حصہ لیا تھا۔
فلوٹیلا نے اس نئی مہم کو اپنی سرگرمیوں کی “فیصلہ کن توسیع” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا حجم پچھلی کارروائی کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس مشن کا مقصد محض انسانی امداد کی ترسیل نہیں بلکہ فلسطینی علاقوں میں ایک “مستقل اور ماہر شہری موجودگی” قائم کرنا ہے، تاکہ گزشتہ دو برس کے دوران تباہ ہونے والے بنیادی شہری ڈھانچے کی بحالی میں مدد دی جا سکے۔
تنظیم کے مطابق اس مہم کا ایک اہم پہلو “غیر مسلح شہری حفاظتی موجودگی” کا قیام ہوگا۔ اس کے تحت تربیت یافتہ افراد فلسطینی برادریوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، تشدد کی روک تھام میں معاونت کریں گے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویز بندی کریں گے اور مقامی سطح پر تحفظ اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنائیں گے۔
فلوٹیلا کے مطابق آئندہ ہفتوں میں اس مشن میں شریک افراد کی فہرست جاری کی جائے گی، تاہم ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ شرکا “تقریباً تمام” ممالک سے ہوں گے اور ان کے پس منظر مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہوں گے۔
اس “غیر پرتشدد اور منظم شہری کارروائی” کے تحت ایک ہزار سے زائد طبی ماہرین بھی شامل ہوں گے، جو ادویات اور ضروری طبی آلات سے لیس جہازوں پر سوار ہوں گے۔ یہ طبی عملہ غزہ میں موجود مقامی صحت کے نظام کے ساتھ تعاون کرے گا تاکہ ہنگامی طبی سہولیات کو مضبوط بنایا جا سکے اور محاصرے اور مسلسل بمباری سے متاثرہ نظامِ صحت کو سہارا دیا جا سکے۔
بیان کے مطابق اس مشن کے ذریعے خوراک، بچوں کے لیے دودھ، تعلیمی سامان، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل بھی کی جائے گی۔
فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ یہ مہم ایک ایسا قابلِ تقلید ماڈل پیش کرے گی جس کی قیادت ماہرین اور وہ شہری کریں گے جنہوں نے “اب بہت ہو چکا” کہنے کا فیصلہ کیا ہے، اور جنہیں دنیا بھر کے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی قانون، انسانی اصولوں اور فلسطینی قیادت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
تنظیم کے مطابق اس مشن کے دیگر اہم اہداف میں اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے دباؤ ڈالنا، فلسطینیوں کے ساحل اور بیرونی دنیا تک رسائی کے حق کا مطالبہ، تعمیرِ نو کی حمایت، اور اس عالمی معاونت کو بے نقاب کرنا شامل ہے جو اسرائیلی قبضے، محاصرے اور مبینہ نسل کشی کو ممکن بناتی ہے۔
فلوٹیلا گلوبل صمود کی قیادت میں شامل سیف ابو کشک نے کہا کہ “کئی دہائیوں سے حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ذمہ دار رہے ہیں، مگر غزہ میں یہ ذمہ داریاں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ یہ مشن اسی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ جب ادارے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں چھوڑ دیتے ہیں تو عوام کو وہ ذمہ داری سنبھالنی پڑتی ہے۔”