اسپین وینزویلا میں امریکا کی فوجی مداخلت کو تسلیم نہیں کرے گا،ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز

WhatsApp Image 2026-01-03 at 23.08.13

میڈرڈ(دوست نیوز)ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز نے واضح کیا ہے کہ اسپین وینزویلا میں امریکا کی فوجی مداخلت کو تسلیم نہیں کرے گا، کیونکہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے کو غیر یقینی اور جنگی حالات کی طرف دھکیل رہا ہے۔

ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں پیدرو سانچیز نے یاد دلایا کہ 2024 کے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد اسپین نے نکولس مادورو کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا، تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسپین کسی ایسی امریکی فوجی کارروائی کو بھی تسلیم نہیں کرے گا جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم ہو۔

وزیرِ اعظم نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری آبادی کو مدنظر رکھیں، اقوام متحدہ کے منشور کا احترام کریں اور وینزویلا میں منصفانہ اور مذاکرات پر مبنی سیاسی منتقلی کے لیے راستہ ہموار کریں۔

اس سے قبل بھی سانچیز نے امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملوں کے بعد حالات کو کشیدگی سے بچانے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہسپانوی حکومت وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں موجود اسپین کا سفارت خانہ اور قونصل خانے مکمل طور پر فعال ہیں۔

دوسری جانب ہسپانوی وزارتِ خارجہ، یورپی یونین اور تعاون نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ یورپی یونین کے شراکت داروں اور خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر وینزویلا کی صورتحال کا قریبی جائزہ لے رہی ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس میں کارروائی کے دوران نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا ہے اور امریکا ایک عبوری دور کے لیے وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسے روڈریگز سے سیاسی منتقلی کے عمل پر بات چیت کر رہا ہے۔

اس بیان کے باوجود وینزویلا میں چاویستا نظام کے تحت قائم ادارے بدستور فعال ہیں۔ نائب صدر ڈیلسے روڈریگز نے امریکا سے مادورو اور ان کی اہلیہ کی خیریت ثابت کرنے کے لیے زندگی کی علامت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے