بارسلونا میں امریکہ کے حق میں اور میڈرڈ میں دہشت گرد امریکہ کے نعرے ساتھ احتجاج کیا گیا
بارسلونا(دوست نیوز) نکولس مادورو کی گرفتاری اور وینزویلا پر امریکی کارروائی کے خلاف اتوار کے روز میڈرڈ میں امریکی سفارت خانے کے سامنے سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسے وینزویلا کے خلاف “امپیریلسٹ جارحیت” قرار دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے لاطینی امریکا سے نکلنے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج پلیٹ فارم اگینسٹ نیٹو اینڈ ملٹری بیسز کی جانب سے منظم کیا گیا تھا، جس میں شرکا نے سفارت خانے کے سامنے واقع سیرانو اسٹریٹ کے تقریباً ایک بلاک پر قبضہ کر لیا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری نے سڑک عبور کرنے سے روکنے کے لیے علاقے کو گھیرے میں رکھا۔
مظاہرے کے دوران “ٹرمپ جارح”، “امریکا کا بائیکاٹ کرو”، “امریکا حملہ آور”، “لاطینی امریکا سے یانکیز باہر نکلو”، “یہ سفارت خانہ خون سے رنگا ہوا ہے”، “نیٹو نامنظور، فوجی اڈے ختم کرو” اور “ہم امریکی کالونی نہیں بننا چاہتے” جیسے نعرے لگائے گئے۔ کئی مظاہرین کے ہاتھوں میں انہی مطالبات پر مبنی پلے کارڈز بھی تھے۔
جبکہ دوسری جانب بارسلونامیں اتوار کی شام آرک دے تریومف پر وینزویلا کے تقریباً ایک ہزار جلاوطن شہری جمع ہوئے، جہاں انہوں نے نیکولس مادورو کی امریکا کے ہاتھوں گرفتاری پر خوشی کا اظہار کیا اور وینزویلا کے لیے انصاف اور جمہوریت کا مطالبہ دہرایا۔ شرکا نے اس کارروائی پر تالیاں بجائیں، تاہم اس کے ساتھ ہی وینزویلا کے عوام کے حقِ خود حکمرانی پر زور دیا۔