“امریکہ کے ساتھ تعلقات اعتماد اور مکالمے کی بنیاد پر قائم ہیں”فیلیپ ششم
Screenshot
میڈرڈ(دوست نیوز)اسپین کے شاہ فیلیپ ششم نے ڈپلومیٹک کور کی سالانہ استقبالیہ تقریب کے موقع پر امریکہ کے ساتھ تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپین اور امریکہ کے درمیان تعلقات تاریخی طور پر اعتماد اور مکالمے پر قائم رہے ہیں۔ یہ ان کا ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد پہلا بالواسطہ ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔
شاہی محل کے تخت گاہ ہال میں ہونے والی اس تقریب میں اسپین میں تعینات 126 سفیروں نے شرکت کی۔ ایک بار پھر روس کے سفیر غیر حاضر رہے، جبکہ امریکہ، ہیٹی، جاپان، ملائیشیا اور یونان کے نئے سفرا نے ابھی تک اپنی سفارتی اسناد پیش نہیں کیں، اس لیے وہ بھی موجود نہیں تھے۔ امریکہ کی نمائندگی ناظم الامور نے کی۔
اپنے خطاب میں شاہ فیلیپ نے خاص طور پر ٹرانس اٹلانٹک تعلقات پر زور دیا اور کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مستقبل کی سمت میں، باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ موقع امریکہ کے قیام میں اسپین کے اہم کردار کو اجاگر کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا بہترین موقع ہے۔
شاہ نے ٹرانس اٹلانٹک تعلق کو عالمی سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا اور واضح کیا کہ اسپین اس اسٹریٹجک اتحاد کے ساتھ اپنے پختہ عزم پر قائم ہے۔ ان کے مطابق دنیا اس وقت بین الاقوامی نظام میں ایک گہری تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں روایتی عالمی اصول مسلسل چیلنج ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اب یہ ممکنہ خدشات نہیں رہے بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے حال کو متاثر کر رہی ہے۔ شاہ فیلیپ نے بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور محاذ آرائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تنازعات کی توسیع ایک خطرناک رجحان بنتی جا رہی ہے۔
خطاب کے دوران شاہ نے پہلی بار گرین لینڈ کا ذکر بھی کیا، جبکہ وینزویلا کے حوالے سے انہوں نے ایک بار پھر “تمام سیاسی قیدیوں” کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوری منتقلی ناگزیر ہے اور اس عمل میں صرف وینزویلا کے عوام ہی مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست میں بے یقینی بڑھ رہی ہے اور امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کے بیانات اور اقدامات پر یورپ میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔