جونتس کا ہسپانوی حکومت سے مطالبہ: چین کے سامنے اقلیتی زبانوں اور شناخت کے تحفظ کا معاملہ اٹھایا جائے
Screenshot
اسپین کی سیاسی جماعت جونتس پر کاتالونیا نے پارلیمنٹ میں ایک تجویز پیش کی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ چین کے سامنے اقلیتی زبانوں اور ثقافتی شناختوں کے احترام کا معاملہ اٹھائے۔
یہ تجویز پیدروسانچز کی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ چین کے “قومی یکجہتی کے فروغ” سے متعلق قانون پر اپنی تشویش کا اظہار کرے، کیونکہ اس کے ذریعے اقلیتوں کو زبردستی اکثریتی ثقافت میں ضم کرنے اور ان کی الگ شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جونتس کے مطابق، حکومت کو چاہیے کہ وہ چین کو آگاہ کرے کہ اس قانون کا نفاذ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر ثقافتی، لسانی اور مذہبی آزادی کے حوالے سے۔
مزید برآں، تجویز میں زور دیا گیا ہے کہ قومی اقلیتوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے، اپنی مذہبی روایات پر عمل کرنے اور اپنی ثقافت کو آزادانہ طور پر برقرار رکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، جس میں ریاستی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
اس تجویز میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسپین کی حکومت چین کے تعلیمی بورڈنگ اسکولوں کے نظام کی مخالفت کرے، خاص طور پر تبتی بچوں کے حوالے سے، کیونکہ اس سے نئی نسل اپنے خاندان، زبان اور ثقافت سے دور ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ مؤقف بھی چینی سفیر تک پہنچانے کی سفارش کی گئی ہے۔
کارلس پویجدیمونت کی جماعت نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ یہ قانون ثقافتی، مذہبی اور لسانی یکسانیت کو فروغ دیتا ہے اور مختلف شناختوں کو ختم کر کے ایک واحد چینی شناخت مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو اکثریتی ہان قوم پر مبنی ہے۔
جونٹس نے خاص طور پر تبتی اور ایغور (ویغور) اقلیتوں کا ذکر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدامات “ثقافتی نسل کشی” کے مترادف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے لیے قائم “ری ایجوکیشن سینٹرز” میں لاکھوں افراد کو زبردستی رکھا گیا ہے، جبکہ تبتی طلبہ کو بڑی تعداد میں ایسے اسکولوں میں بھیجا جا رہا ہے جہاں تعلیم زیادہ تر مینڈرن زبان میں دی جاتی ہے۔