حکومت کے بعض ارکان نے ووکس کو جان بوجھ کر ابھارا تاکہ پی پی کو نقصان پہنچےفلیپے گونثالث کا دعویٰ

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ/ اسپین کے سابق وزیرِاعظم فلیپے گونثالث نے کہا ہے کہ موجودہ وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کی حکومت کے بعض ارکان نے نجی گفتگو میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ووکس کو دانستہ طور پر مضبوط کیا گیا تاکہ پاپولر پارٹی (PP) کے رہنما البرتو نونیئس فیخو کو سیاسی نقصان پہنچایا جا سکے۔

منگل کے روز میڈرڈ کے اتینیو میں ایک تقریب سے خطاب اور بعد ازاں مذاکرے میں حصہ لیتے ہوئے فلیپے گونثالث نے بتایا کہ ’’مجھے خود حکومت کے اندر سے یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو آسان بنایا گیا، مقصد یہ تھا کہ پی پی کو کمزور کیا جائے۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ شاید اس معاملے میں حد سے زیادہ آگے بڑھ گئے۔‘‘

اس موقع پر آراگون میں ووکس کی انتخابی کامیابی، جہاں پارٹی نے اپنی نشستیں دگنی کر لیں، گفتگو کا ایک اہم موضوع رہی۔

فلیپے گونثالث نے کہا کہ حکومت کا خیال تھا کہ جتنا ووکس مضبوط ہو گا، پاپولر پارٹی کے لیے اتنی ہی مشکلات بڑھیں گی۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’کیا واقعی ووکس سے معاہدہ کرنا کوئی مہلک جرم ہے؟ میں خود ووکس سے معاہدہ نہیں کروں گا، لیکن بلدو سے معاہدہ کرنے کے معاملے میں تو میں اس سے بھی زیادہ فاصلے پر ہوں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’کیا بلدو سے معاہدہ کرنا ووکس سے زیادہ جائز ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔ کیا بلدو کو سیاست میں حصہ لینے کا حق ہے؟ ہاں۔ لیکن کیا ہم پر یہ لازم ہے کہ ان سے معاہدہ کریں؟ نہیں۔‘‘

سابق وزیرِاعظم نے اس تاثر پر بھی تنقید کی کہ پیدرو سانچیز کو انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک مؤثر ڈھال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، ’’انتہائی دائیں بازو کے خلاف سب سے مؤثر علاج یہ ہے کہ اسپین درست طریقے سے کام کرے، اور اس وقت اسپین درست طور پر کام نہیں کر رہا۔‘‘

انہوں نے رہائش کے بحران، بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور اس حقیقت کی مثال دی کہ وبا کے دوران منظور کیا گیا سماجی تحفظی نظام چار پانچ سال بعد بھی برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔

فلیپے گونثالث نے کہا، ’’جب کوئی حکومت میں دو سال سے زیادہ عرصہ گزار لے تو وہ اپنی ہی پالیسیوں کی وارث بن جاتی ہے۔ جو شخص اس بات کو نہیں سمجھتا، وہ دراصل حکومت چلانے کے عمل کو نہیں سمجھتا۔‘‘

انہوں نے حکومت کی جانب سے جنرل بجٹ پیش نہ کیے جانے پر بھی سخت تنقید کی اور یاد دلایا کہ انہیں خود بجٹ منظور نہ ہونے پر انتخابات کرانا پڑے تھے۔

ان کا کہنا تھا، ’’بجٹ پیش نہ کرنا آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشلسٹ پارٹی وہ جماعت ہے جس پر آئینی معاہدے کے بعد سب سے زیادہ آئینی اقدار کی نمائندگی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘‘

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے