سانچز کی اجتماعی ریگولرائزیشن پر پولیس یونینوں کا ردِعمل

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ/ سانچیز حکومت کے اجتماعی ریگولرائزیشن فیصلے پر پولیس کی مختلف تنظیموں، جن میں جیوپول (Jupol) اور ایس یو پی (SUP) شامل ہیں، نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض سیاسی حساب کتاب ہے، کیونکہ اضافی وسائل فراہم کیے بغیر اس سے سکیورٹی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پولیس یونینوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے محکمۂ امیگریشن پہلے ہی کی طرح مزید مفلوج ہو جائے گا، جبکہ غیر قانونی نیٹ ورکس اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کو بھی فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق، لاکھوں درخواستوں کی جانچ، شناخت کی تصدیق اور قانونی تقاضوں کی پڑتال ایسی یونٹس پر ڈال دی جائے گی جو پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں۔

Screenshot

دوسری جانب، پودیموس کے قریب سمجھی جانے والی تنظیمیں اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں۔ تحریک “ریگولرائزیشن یا” کے مطابق اس اقدام سے تقریباً دس لاکھ افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس وقت تقریباً سات لاکھ افراد ایسے ہیں جو غیر قانونی حیثیت میں اسپین میں مقیم ہیں اور اب وہ ریگولرائزیشن کے عمل میں شامل ہو سکیں گے۔

ادھر اقتصادی اور سماجی امور پر تحقیق کرنے والے ادارے فنکاس (Funcas) کے اندازے کے مطابق تقریباً آٹھ لاکھ چالیس ہزار افراد ایسے ہیں جو مختلف انتظامی رکاوٹوں کے باعث اپنی قانونی حیثیت مکمل نہیں کر سکے۔ یکم جنوری 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی افراد، غیر یورپی شہریوں کا 17.2 فیصد بنتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے