Screenshot
بارسلونا کے Vall d’Hebron University Hospital نے اسپین میں پہلی بار ایک ایسے ٹرانسپلانٹ کو کامیابی سے انجام دیا ہے جس میں دونوں افراد HIV (ایچ آئی وی) سے متاثر تھے۔
یہ ایک گردے کی پیوندکاری (کڈنی ٹرانسپلانٹ) تھی جو ایک زندہ ڈونر نے اپنے دوست کو دی۔ مریض دائمی گلومیرولو نیفرائٹس (گردوں کی بیماری) میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے اسے ہیموڈائیلیسس کروانا پڑ رہا تھا۔
آپریشن کامیاب رہا اور ڈونر اور مریض دونوں خیریت سے ہیں۔اس کیس میں خاص بات یہ تھی کہ ڈونر بھی HIV پازیٹو تھا، جبکہ عام طور پر اسپتال ہر سال ایک یا دو ایسے مریضوں کا ٹرانسپلانٹ کرتا ہے جو HIV کے مریض ہوتے ہیں، لیکن پہلے کبھی HIV والے ڈونر سے نہیں کیا گیا تھا۔
یہ طریقہ پہلے ممکن نہیں تھا کیونکہ 1987 سے ایک قانون نافذ تھا جو HIV والے افراد کے اعضا کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ تاہم، اسپین نے 2025 میں اس قانون کو ختم کر دیا، جس کے بعد مئی 2026 میں اس حوالے سے نیا قومی پروٹوکول منظور کیا گیا۔
ڈاکٹر جوردی ناواررو کے مطابق اس عمل میں ایک خطرہ موجود ہوتا ہے جسے “سپر انفیکشن” کہا جاتا ہے، یعنی مریض میں HIV کی ایک نئی قسم منتقل ہو سکتی ہے، لیکن یہ بہت کم ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے HIV کے مریضوں کو بھی دیگر افراد کے برابر مواقع ملیں گے۔
کاتالونیا میں تقریباً 35,000 افراد HIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ہر سال 400 سے 500 نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔
نئے قانون کے بعد اب HIV سے متاثرہ افراد بھی اگر چاہیں تو اپنے اعضا عطیہ کر سکتے ہیں، جس سے انتظار کی فہرستوں میں کمی آنے کی امید ہے۔
