بارسلونا ٹیکسی سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے۔

Screenshot

Screenshot

بارسلونا میں ٹیکسی شعبے کو وی ٹی سی سروسز پر ترجیح دینے کے مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا گیا ہے، تاہم بلدیہ نے واضح کیا ہے کہ بدلتے حالات میں مقابلہ کرنے کے لیے ٹیکسی سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے۔

شہر کی ڈائریکٹر برائے موبیلیتی لیدیا تورّیس نے جمعہ کے روز ٹیکسی کمپنیوں اور ڈرائیوروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر زرد و سیاہ ٹیکسی اپنی برتری برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے موبائل ایپس کے ذریعے سروس فراہم کرنے کے نظام کا حصہ بننا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاح عموماً ٹیکسی اسٹینڈ کا رخ نہیں کرتے بلکہ عالمی شہروں کی طرح موبائل ایپ کے ذریعے سواری بک کرتے ہیں۔

تورّیس نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ اور Generalitat دونوں ریگولیٹڈ ٹیکسی سیکٹر کو ترجیح دینے کے حامی ہیں، مگر ساتھ ہی وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق بارسلونا میں ٹیکسی شہر کی شناخت کا حصہ ہے، جہاں 10 ہزار 500 لائسنس اور روزانہ 6 ہزار پیشہ ور ڈرائیور خدمات انجام دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ Freenow جیسی ایپس سروس کو مؤثر بناتی ہیں اور بالخصوص سیاحتی صارفین تک رسائی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ شہر میں اس وقت 4 ہزار 300 ٹیکسی ڈرائیور Freenow سے منسلک ہیں، جبکہ 1 ہزار 700 ڈرائیور Uber کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ Bolt اور Cabify نے بھی مستقبل کی قانون سازی کے پیش نظر ٹیکسی سیکٹر کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت نو نشستوں تک کی گاڑیوں کے لیے وی ٹی سی سروس کو شہری حدود میں محدود کرنے کی تجویز ہے۔

Freenow کی ڈائریکٹر ازابیل گارسیا نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکسی نئی ضروریات پوری نہیں کرے گی تو صارف متبادل ذرائع اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایپس کے ذریعے کم وقت میں زیادہ آمدنی ممکن ہے۔

Advanced Leisure Services کے صدر اینخل دیاز نے ٹیکسی ڈرائیوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان پلیٹ فارمز پر موجود نہیں جہاں سیاح موجود ہیں۔ ان کے بقول موجودہ دور میں صارف ہی تبدیلی کی سمت متعین کر رہا ہے اور ٹیکسی شعبہ سیاحت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

Taxi Services Provider کے صدر دیونیسیو گراسیا نے مؤقف اختیار کیا کہ لائسنس کم کیے جائیں مگر ٹیکسیاں ڈبل شفٹ میں چلیں، اور شعبے میں کاروباری وژن کو فروغ دیا جائے۔ ان کے مطابق انفرادی ڈرائیوروں کو ایک ایسے ماحولیاتی نظام میں تبدیل ہونا ہوگا جہاں وہ خودمختار مگر پیشہ ورانہ انداز میں کام کریں۔

گراسیا نے خبردار کیا کہ مستقبل میں روبوٹیکسی اور دیگر نئے کھلاڑی مارکیٹ میں آئیں گے، اس لیے مقامی مگر ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ سروس کی تیاری ضروری ہے۔

دوسری جانب کونسل برائے محنت، اقتصادی و سماجی امور کاتالونیا کے صدر سیریاکو ایدالگو نے کہا کہ سخت ریگولیٹڈ شعبے میں نئے آپریٹرز کو بھی انہی قواعد کا پابند ہونا چاہیے جو پہلے سے لاگو ہیں۔ انہوں نے ٹیکسی سیکٹر پر زور دیا کہ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعاون کرے تاکہ تبدیلی کے عمل کی قیادت خود کر سکے اور فوائد کسی اور کے ہاتھ نہ جائیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے