تاراگونا نے بھی بلدیاتی عمارتوں میں برقع اور نقاب پر پابندی مسترد کر دی
Screenshot
اسپین کے شہر تاراگونا کی بلدیہ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی واضح اکثریت نے جمعہ کے روز بلدیاتی عمارتوں میں چہرہ مکمل یا جزوی طور پر ڈھانپنے والے لباس پر پابندی کی تجویز مسترد کر دی۔ فروری کے بلدیاتی اجلاس میں ووکس (Vox) کی پیش کردہ قرارداد کو صرف 5 ووٹ ملے جبکہ 22 کونسلرز نے اس کی مخالفت کی، جس کے باعث یہ تجویز ناکام ہو گئی۔
یہ معاملہ قومی سطح پر جاری بحث کے پس منظر میں سامنے آیا، خاص طور پر اس کے بعد جب ووکس کی اسی نوعیت کی تجویز چند روز قبل ہسپانوی پارلیمنٹ میں بھی ناکام ہو گئی تھی۔ ووکس نے بلدیہ تاراگونا میں برقع پر پابندی کی قرارداد پیش کرتے ہوئے مقامی حکومتوں کے اختیارات سے متعلق قانون کا حوالہ دیا، جس کے مطابق سکیورٹی، نظم و ضبط اور بلدیاتی سہولیات کے انتظام کے حوالے سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یہ قرارداد بلدیہ میں ووکس کی واحد نمائندہ رکن جُودیت گومیز نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ بلدیاتی دفاتر میں ایسے افراد کے داخلے یا قیام کی اجازت نہ دی جائے جو چہرہ مکمل یا جزوی طور پر ڈھانپتے ہوں، جیسے برقع یا نقاب، تاکہ سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر افراد کی شناخت ممکن ہو سکے۔ گومیز کے مطابق بعض سرکاری خدمات اور کارروائیوں میں شناخت کی تصدیق، جعلسازی کی روک تھام اور عوامی سکیورٹی کے لیے چہرہ دکھانا ایک ضروری تقاضا ہے۔
تاہم اجلاس کے دوران کومونس (Comuns) پارٹی کے ترجمان جوردی کولادو نے بلدیہ کے سیکریٹری جوان انتون فونت سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص چہرہ ڈھانپ کر بلدیاتی دفتر آئے تو کیا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ سیکریٹری نے جواب دیا کہ ایسے افراد سے صرف وقتی طور پر چہرہ دکھانے کی درخواست کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں صرف ایک واقعہ یاد ہے، جب توریفورتا کے دفتر میں ایک شخص سے شناخت کے لیے چہرہ دکھانے کو کہا گیا اور اس نے بغیر کسی اعتراض کے ایسا کیا۔
اس وضاحت کے بعد بھی ووکس نے قرارداد واپس نہیں لی اور اسے ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا۔ ووکس کو صرف پاپولر پارٹی (PP) کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ دیگر تمام جماعتوں، جن میں PSC، ERC، Junts اور Comuns شامل ہیں، نیز دو آزاد کونسلرز نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیا، جس کے نتیجے میں قرارداد مسترد ہو گئی۔