اسپین،تارکین وطن کی آمد میں تیزی،پولیس نے وزارت داخلہ کو خبر دار کردیا
Screenshot
اسپین میں محکمۂ غیر ملکی امور اور سرحدی پولیس کے اعلیٰ افسران نے وزارتِ داخلہ کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں منظور کی گئی بڑے پیمانے پر قانونی حیثیت دینے کی پالیسی نے مبینہ طور پر “کشش” پیدا کی ہے، جس کے باعث غیر قانونی ہجرت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیشنل پولیس کی یونٹ برائے ایکسترانخیرِیا و فرونتیراس کے ذمہ داران نے نشاندہی کی ہے کہ جنوری میں وزیرِ اعظم پیدرو سانچزکی حکومت کی طرف سے منظور کی گئی اجتماعی ریگولرائزیشن کے بعد تارکین وطن کی آمد میں تیزی آئی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھنے والے افراد کی مسلسل آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ افراد مبینہ طور پر ایک نئی راہ اختیار کر رہے ہیں جسے “ترک روٹ” کہا جا رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت پہلے الجزائر سے استنبول تک ہوائی سفر کیا جاتا ہے، اور وہاں سے یورپ کے زمینی راستوں کے ذریعے گاڑیوں میں اسپین پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سرحدی علاقوں ایرون اور لا خونکیرا میں اس رجحان کا خاص طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے، جہاں پولیس نے الجزائری اور مراکشی باشندوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ نوٹ کیا ہے۔
ادھر ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم سانچیز کے دورِ حکومت میں تقریباً 14 لاکھ غیر ملکیوں کو ہسپانوی شہریت دی جا چکی ہے، اور اندازہ ہے کہ 2027 تک مزید 10 لاکھ نئے ووٹرز عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہو سکتے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے تاحال اس تناظر میں کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیکیورٹی حکام اس پیش رفت کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔