بارسلونا میں “تھیریانز” کا جنون: ہزاروں افراد جمع ہوگئے لیکن جانوروں سے مشابہ سمجھنے والے افراد نہ آئے
Screenshot
بارسلونا/ ہفتہ کے روز Arc de Triomfآرک دی تراینف کے مقام پر ہزاروں افراد اس افواہ پر جمع ہو گئے کہ وہاں “تھیریانز” کا اجتماع ہوگا۔ زیادہ تر نوجوان اور کم عمر افراد تجسس کے باعث وہاں پہنچے تاکہ ایسے لوگوں کو دیکھ سکیں جو خود کو جانوروں سے مشابہ سمجھتے یا ان جیسا برتاؤ کرتے ہیں۔
تاہم حقیقت میں ایسا کوئی باقاعدہ اجتماع نہیں ہوا۔ ہجوم میں صرف چند افراد نظر آئے جو جانوروں کے بھیس میں موجود دیگر لوگوں کے درمیان گھل مل گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں نے اس قدر اثر ڈالا کہ موقع پر چیخ و پکار اور دھکم پیل کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
Passeig de Lluís Companys پر لوگوں کا ہجوم اپنے موبائل فون اٹھائے تصویریں بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ ایک لڑکی، جس نے بلی کا ماسک پہن رکھا تھا، نے بتایا کہ وہ بچپن سے خود کو بلیوں سے خاص طور پر وابستہ محسوس کرتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس احساس کے باوجود وہ ایک عام انسانی زندگی گزار رہی ہے اور اس کے خاندان اور دوست اسے قبول کرتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ کبھی کبھی تنہائی میں بلی کی طرح آوازیں بھی نکالتی ہے۔
اسی دوران ایک بچہ خرگوش کا ماسک پہن کر چار ٹانگوں پر چلتا ہوا بھی دیکھا گیا۔ کچھ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے مزید ایسے افراد کو دیکھا، لیکن وہ ہجوم دیکھ کر وہاں سے چلے گئے۔
اس غیر معمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کئی افراد نے جانوروں کے لباس پہن کر لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ ایک شخص گدھے کے بھیس میں آیا اور اس نے ہجوم کی طرف جانوروں کی خوراک پھینکی، جبکہ ایک اور شخص پھولے ہوئے گوریلا کے لباس میں گھومتا رہا۔
یہ رجحان خاص طور پر TikTok اور Instagram پر وائرل ہوا ہے۔ “تھیریانز” وہ افراد ہوتے ہیں جو خود کو کسی جانور جیسے لومڑی، بلی یا سانپ سے روحانی یا نفسیاتی طور پر منسلک محسوس کرتے ہیں۔ بعض افراد کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ کسی پچھلی زندگی میں جانور تھے۔