کاتالونیا کی روایتی انسانی مینار سازی کی دنیا،2025 میں 514 حادثات ہوئے
کاتالونیا کی روایتی انسانی مینار سازی کی دنیا، یعنی ’کاستیئر‘ سرگرمیوں میں، 2025 کا سال 514 حادثات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار Coordinadora de Colles Castelleres de Catalunya (CCCC) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں پیش کیے گئے۔ ریکارڈ کے مطابق یہ تیسرا ایسا سیزن ہے جس میں سب سے زیادہ حادثات ہوئے، اس سے قبل 2018 اور 2024 میں اس سے زیادہ واقعات پیش آئے تھے، تاہم وہ دونوں مقابلے (کنکورس) کے سال تھے۔
بغیر مقابلے کے سالوں میں دیکھا جائے تو 2025 کے حادثات 2019 کے مقابلے میں 24.5 فیصد زیادہ ہیں، جب 413 حادثات ریکارڈ ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق آٹھ درجے (castells de vuit) کے مینار سب سے زیادہ حادثات کا سبب بنے، جو کل واقعات کا 23.8 فیصد ہیں۔ اس کے بعد “گاما ایکسترا” درجے کے مینار ہیں، جن کا تناسب 23.2 فیصد ہے۔ نائب صدر میکیل تورے گروسا کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ سات درجے کی ٹیموں نے ترقی کرتے ہوئے پہلی بار بڑی تعداد میں آٹھ درجے کے مینار بنانے شروع کیے، جن کی مشکل اور جسامت زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے باوجود تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی مجموعی طور پر محفوظ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر 30.9 میناروں میں سے صرف ایک میں حادثہ پیش آتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مینار کم گرتے ہیں اور شدید نوعیت کی چوٹیں بھی کم ہوتی ہیں، لیکن احتیاط کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
زیادہ تر چوٹیں بازوؤں اور ٹانگوں، ریڑھ کی ہڈی اور سر میں آئیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد “پِنیا” (مینار کی بنیاد بنانے والے افراد) ہیں، جن کا تناسب 44 فیصد ہے، جبکہ درمیانی حصے کے ارکان 34 فیصد متاثر ہوئے۔ سب سے اوپر والے حصے “پوم دے دالت” میں 16 فیصد چوٹیں ریکارڈ ہوئیں۔
شدید نوعیت کی ممکنہ چوٹوں میں بھی آٹھ درجے کے مینار سرِفہرست رہے، جن کا تناسب 42.9 فیصد ہے۔ اگرچہ گاما ایکسترا میناروں میں گرنے کے واقعات ہوتے ہیں، لیکن ان میں شدید چوٹوں کا تناسب صرف 14 فیصد رہا۔ سر پر لگنے والی چوٹیں بدستور سب سے زیادہ ہیں، جن کا تناسب 82 فیصد بتایا گیا ہے۔
اجلاس میں ایک نئے “کاستیئر ہیلمٹ” کے منصوبے پر بھی بات کی گئی، جسے CCCC، Hospital Sant Joan de Déu کے تعاون سے تیار کر رہی ہے۔
میڈیکل شعبے کی ذمہ دار سلویہ سیمو کے مطابق موجودہ ہیلمٹ پہلے ہی کافی مؤثر ہے اور اس نے اوپری حصے میں حادثات کو نمایاں حد تک کم کیا ہے، لیکن چہرے کے کچھ حصے جیسے ماتھا، ناک اور گال مکمل طور پر محفوظ نہیں تھے۔ نئے ڈیزائن میں بہتر سائزنگ کے ساتھ ایک چہرہ محافظ (فیس پروٹیکٹر) بھی شامل کیا جائے گا۔ ابتدائی نمونے آئندہ خزاں میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔