اسپین کے مہاجرین کی ریگولرائزیشن منصوبے میں صاف مجرمانہ ریکارڈ کا ثبوت لازمی قرار

Screenshot

Screenshot

اسپین کی حکومت مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کے لیے جاری شاہی فرمان رائل ڈکری (Royal Decree) میں تبدیلیاں متعارف کرانے جا رہی ہے، جسے منگل کے روز کابینہ سے منظور کیا جائے گا۔

یہ تبدیلیاں زیادہ تر کونسل آف اسٹیٹ کی جانب سے دی گئی سفارشات کے مطابق کی گئی ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ شرط پہلے ہی اسپین کے امیگریشن قانون کا حصہ رہی ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب سوشلسٹ حکومت، قدامت پسند جماعت پاپولر پارٹی کی مخالفت کے باوجود، اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔

اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے مختلف حلقوں، جن میں آجر تنظیمیں اور کیتھولک چرچ بھی شامل ہیں، کی حمایت حاصل ہے۔

بیجنگ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا“ہم جو کر رہے ہیں وہ ان لوگوں کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے جو پہلے ہی ہمارے ملک میں موجود ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی اس وقت ضروری ہے جب ملک کو “آبادی میں کمی” (demographic winter) کا سامنا ہے، اور اس کا مقصد پنشن نظام اور معاشی ترقی کو سہارا دینا ہے۔

ان کے مطابق“ہجرت معیشت کی ترقی، روزگار کے مواقع اور سوشل سیکیورٹی کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔”

انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ سابق وزیر اعظم خوسے ماریا اثنار کی حکومت نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی مہاجرین کو قانونی حیثیت دی تھی۔

فیخو جو کہ پاپولر پارٹی کے رہنما ہیں، نے اس منصوبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا“یہ غیر انسانی، غیر منصفانہ، غیر محفوظ اور ناقابلِ عمل ہے۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے