ایرانی حکومت کو کبھی پسند نہیں کیا،لیکن یکطرفہ کارروائی کسی طور قبول نہیں، پیدرو سانچیز
Screenshot
میڈرڈ/ ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز ہفتہ کی رات بارسلونا میں ہونے والی گویّا ایوارڈز کی 40ویں تقریب میں شریک ہوئے اور انہوں نے ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا“یقیناً ہم سب ایرانی حکومت کو مسترد اور مذمت کرتے ہیں۔ ہم شروع سے یہ بات کہہ رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ حکومت اپنے معاشرے، اور خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کو دباتی ہے۔ لیکن اس سے ایسے یکطرفہ اقدامات جائز نہیں ہو جاتے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کریں اور دنیا کو مزید غیر مستحکم اور لوگوں کے لیے مزید تکلیف دہ بنا دیں۔”
انہوں نے یہ بات گویّا ایوارڈز کی تقریب میں ریڈ کارپٹ پر اپنی اہلیہ بیگونیا گومیز کے ساتھ شرکت کے دوران کہی۔
وزیرِاعظم نے سوال اٹھایا کہ سیاست کب بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان تنازعات اور جنگوں کا حل پیش کرے گی، کیونکہ یہ جنگیں کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسپین ہمیشہ ایران، غزہ اور یوکرین جیسے بحرانوں کے حل کے لیے “پرامن راستے” کی حمایت کرے گا۔
سانچیز نے امریکی اداکارہ سوزن سرینڈن کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے انہیں “تاریخ کے درست پہلو” پر قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا:“اس وقت جب دنیا میں بہت سے بحران جاری ہیں، اسپین کو اس کے مؤقف کی وجہ سے عالمی سطح پر پہچانا جا رہا ہے، خاص طور پر جنگوں اور بین الاقوامی بحرانوں کے حوالے سے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ کا درست پہلو وہ ہے جو امن کو یقینی بنائے، کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا نے امن اور خوشحالی کا ایک طویل دور دیکھا، جو اب خطرے میں ہے۔
سانچیز نے یہ بھی کہا کہ یہ قابلِ تشویش ہے کہ آج ہسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری جیسے اقدامات یکطرفہ طور پر کیے جا رہے ہیں، بغیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے۔