ہسپانوی پارلیمنٹ عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی کی تجویز مسترد کر دی
Screenshot
ہسپانوی پارلیمنٹ (کانگریس) نے کارلس پویجدیمونت کی جماعت جونتس (Junts) کی جانب سے عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی کی تجویز مسترد کر دی۔ اس تجویز کے خلاف تمام جماعتوں نے ووٹ دیا، جبکہ ERC، PNV اور کولیشن کیناریا نے ووٹنگ میں حصہ لینے کے بجائے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔
سوشلسٹ پارٹی (PSOE) اور سومار (Sumar) نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی، حالانکہ انہوں نے اپنی پوزیشن بحث سے چند گھنٹے پہلے تک واضح نہیں کی تھی۔ دوسری جانب پاپولر پارٹی (PP) اور ووکس (Vox) بھی، اگرچہ برقع پر پابندی کے حامی ہیں، لیکن انہوں نے بھی اس قانون کے خلاف ووٹ دیا کیونکہ اس میں ایک اضافی شق شامل تھی جس کے تحت سکیورٹی اور شناخت کے معاملات میں اختیارات کاتالونیا کو منتقل کرنے کی بات کی گئی تھی۔
یہ تجویز پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کی گئی تھی، جسے جونتس نے اس بنیاد پر پیش کیا کہ یہ کسی خاص مذہب کا ذکر نہیں کرتی بلکہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے کو بنیادی حقوق، خواتین کی مساوات، عوامی سکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
جونتس کے رکن پارلیمنٹ جوزپ پاجیس ای ماسّو نے کہا کہ ان کا مقصد اس مسئلے پر “ذمہ داری اور اعتدال” کے ساتھ بحث کرنا ہے اور اس رجحان کو ختم کرنا ہے جس میں خواتین کو پردے کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے ووکس کی سابقہ تجویز کو “نسل پرستانہ” اور بائیں بازو کی جماعتوں کو “مبالغہ آرائی اور موقع پرستی” کا ذمہ دار قرار دیا۔
تاہم اس تجویز کو ہر طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اسے “سرپرستانہ” اور “نسل پرستانہ” قرار دیا، جبکہ دائیں بازو نے کہا کہ یہ دراصل اختیارات کی منتقلی کا ایک خفیہ طریقہ ہے۔
پاپولر پارٹی نے واضح کیا کہ وہ برقع پر پابندی کے اصول سے متفق ہے، لیکن اس قانون کے ذریعے کاتالونیا کو مزید اختیارات دینا قبول نہیں۔ ان کے مطابق “پابندی ہاں، لیکن اختیارات کی نئی منتقلی نہیں”۔
سوشلسٹ پارٹی نے کہا کہ وہ اس بحث سے خوفزدہ نہیں، لیکن اس معاملے کو “پولیس مسئلہ” بنا دینا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قانون کے تحت پہلے ہی کسی بھی شخص کو ضرورت پڑنے پر چہرہ دکھانا ہوتا ہے، اس لیے نئی پابندی ضروری نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس اور بیلجیم میں ایسی پابندیوں کے نتیجے میں خواتین گھروں تک محدود ہو گئی ہیں۔
سومار نے بھی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اپنی مرضی سے پردہ کرنے یا نہ کرنے کا حق ہونا چاہیے، اور ایسی پابندیاں مہاجر خواتین کو نشانہ بناتی ہیں۔
ERC نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مختلف معاملات کو ملا کر پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانبدار رہے۔
دیگر جماعتوں جیسے بِلدو (Bildu) نے کہا کہ برقع پر پابندی لگانے سے مسلمان خواتین کو نقصان ہوگا، کیونکہ بعض کے لیے یہی طریقہ ہے کہ وہ معاشرے میں حصہ لے سکیں۔
آخر میں پودیموس (Podemos) نے کہا کہ یہ مسئلہ عوام کے لیے فوری ترجیح نہیں، اور اصل آزادی یہ ہے کہ عورت کو نہ تو پردہ کرنے پر مجبور کیا جائے اور نہ ہی اسے اتارنے پر۔