اسپین اور چین کا عالمی نظام کے دفاع کے لیے تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

Screenshot

Screenshot

بیجنگ میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر پیدروسانچز اور  شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے پیشِ نظر اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس ملاقات میں کثیرالجہتی عالمی نظام کو درپیش خطرات، تجارت، سلامتی اور عالمی سیاست کے اہم معاملات زیر بحث آئے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ عالمی نظام “ٹوٹ پھوٹ کا شکار” ہے اور ایسے حالات میں چین اور اسپین جیسے ممالک کو مل کر تعاون بڑھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی تعلقات کا فروغ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ یورپ اور چین کو مل کر کثیرالجہتی نظام کا دفاع کرنا ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث متبادل شراکت داریوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اقتصادی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ سانچیز کے مطابق چین نے اسپین کے ساتھ اپنے تقریباً 50 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اقدامات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی مصنوعات کی برآمدات، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نئے معاہدے بھی متوقع ہیں، جن سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔

عالمی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سانچیز نے مشرقِ وسطیٰ کے حالات، خصوصاً غزہ، لبنان اور یوکرین کے تنازعات کا ذکر کیا اور اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، انہیں دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیان انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے حالیہ سخت مؤقف کے تناظر میں دیا۔

سانچیز نے ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کی بھی مخالفت دہرائی اور واضح کیا کہ اسپین اپنے فوجی اڈوں کو ایسے کسی اقدام کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں درمیانے درجے کی طاقتیں نئے اتحاد اور توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے