ایران اور وینزویلا کے معاملے میں سانچیز جسے وہ “سفارتی راستہ” کہہ رہے ہیں، وہ دراصل کمزوری ہے۔اباسکال

Screenshot

Screenshot

ہسپانوی جماعت ووکس کے صدر سانتیاگو اباسکال نے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں “بدترین حکومتوں کا کارآمد بیوقوف” قرار دیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے تناظر میں دیا۔

یہ گفتگو انہوں نے الماثان (سوریا) کے دورے کے دوران کی، جہاں ان کے ساتھ کاستییا و لیون کی صدارت کے لیے ووکس کے امیدوار کارلوس پولیان بھی موجود تھے۔

اباسکال نے کہا کہ ایران اور وینزویلا کے معاملے میں سانچیز جسے وہ “سفارتی راستہ” کہہ رہے ہیں، وہ دراصل کمزوری ہے۔ ان کے مطابق ایسے آیت اللہ جو اپنے ہی عوام کو کچل رہے ہوں اور حالیہ ہفتوں میں ہزاروں مظاہرین کو قتل کر چکے ہوں، ان کے ساتھ سفارت کاری کی بات کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایرانی قیادت یہ مؤقف سنے تو وہ سانچیز پر ہنسے گی۔

ووکس رہنما نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایران اور وینزویلا کی حکومتیں پچھلے پندرہ برسوں سے اسپین میں انتہا پسند بائیں بازو کی مالی معاونت کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق سانچیز یورپ میں ایرانی آیت اللہ اور نکولاس مادورو کے سب سے بڑے اتحادی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانچیز نہ صرف اسپین کی سلامتی بلکہ اس کی خوشحالی اور آزادی کے لیے بھی مسئلہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سانچیز بین الاقوامی سطح پر بیانات دے کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، خاص طور پر ان کرپشن الزامات سے جو ان کے اور ان کے قریبی حلقے پر لگائے جا رہے ہیں۔ اباسکال کے مطابق وزیرِاعظم مستقبل میں عدالتی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں، اسی لیے وہ موضوع بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اباسکال نے پاپولر پارٹی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس جماعت کا مؤقف اکثر بدلتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ کہا کہ وہ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ پاپولر پارٹی ایرانی اور وینزویلا کے عوام کی آزادی کی حمایت کرے، بجائے اس کے کہ ان تبدیلیوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالے۔

ایران پر بمباری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ “مسلمان دنیا پر حملہ” نہیں ہے، کیونکہ کئی مسلم ممالک نے اس کارروائی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اسپین میں “اسلامائزیشن” کے خدشے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اسپین ماضی میں صدیوں تک اسلامی حکمرانی کے تحت رہا اور بعد میں اس نے اپنی سرزمین دوبارہ حاصل کی۔

آخر میں انہوں نے پودیموس کے رہنماؤں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ فرانس میں انتہا پسند بائیں بازو کے ساتھ مل کر اسلامائزیشن کی حمایت کرتے ہیں اور اسپین میں تیز رفتار ریگولرائزیشن اور شہریت دینے کی پالیسیوں کے حامی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے