البرتو نونیز فیخو اور ووکس کے سربراہ سانتیاگو اباسکال ایران کی جنگ کے معاملے پر “منافق” ہیں،وزیراعظم پیدرو سانچیز
Screenshot
ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ پاپولر پارٹی کے رہنما البرتو نونیز فیخو اور ووکس کے لیڈر سانتیاگو اباسکال ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے جارحانہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں، مگر اس کے اثرات اور اخراجات عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں شروع کیے گئے اس تنازع کا منفی اثر پہلے ہی گھریلو معیشت پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز سوریا میں سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر کاستیلا و لیون کی علاقائی حکومت کے لیے پارٹی کے امیدوار کارلوس مارتینیز اور وزیرِ مساوات آنا ریدوندو بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔ یہ انتخابات آئندہ 15 مارچ کو ہونے والے ہیں۔
سانچیز نے کہا کہ “فیخو سوریا کے گھروں کے گیس اور ہیٹنگ کے بل ادا نہیں کریں گے اور نہ ہی اباسکال لیون، زامورا یا پالینسیا میں کسانوں کے ٹریکٹروں کے لیے ایندھن خریدیں گے، لیکن اس کے باوجود وہ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ سراسر منافقت ہے، کیونکہ دوسروں کی جیب سے قیمت ادا کرواتے ہوئے جنگی بیانات دینا بہت آسان ہوتا ہے۔”
وزیراعظم نے مزید کہا کہ امریکہ جیسے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلق رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاملے میں ان کی ہاں میں ہاں ملائی جائے۔ ان کے بقول پاپولر پارٹی اور ووکس “خودمختاری کو غلامی کے ساتھ خلط ملط کر رہے ہیں” اور وہ ہر حال میں واشنگٹن کی پالیسیوں کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔
سانچیز نے زور دیا کہ اسپین کو اپنی خودمختار خارجہ پالیسی برقرار رکھنی چاہیے اور ایسے فیصلوں سے بچنا چاہیے جن کے معاشی اثرات براہِ راست عوام پر پڑیں۔