موبائل ورلڈ کانگریس کے بعد کی جھلک: یہ ہیں آنے والے اسمارٹ فونز
Screenshot
اگرچہ اب اس تقریب میں اسمارٹ فونز کی اہمیت پہلے جتنی نہیں رہی، لیکن پھر بھی یہی وہ بنیادی ڈیوائس ہے جو پورے ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام کو آپس میں جوڑتی ہے۔ بارسلونا میں منعقد ہونے والی اس نمائش میں ایسے فونز پیش کیے گئے جو ایک طرف زیادہ پرائیویسی فراہم کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے فون بھی سامنے آئے جو صارفین کو موبائل سے کچھ حد تک دور رہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
موبائل ورلڈ کانگریس اس سال اپنے اختتام کو پہنچ گئی اور شرکاء کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ 2025 میں جہاں 1,09,000 افراد شریک ہوئے تھے، اس سال یہ تعداد کم ہو کر 1,05,000 رہ گئی۔ چھ ہندسوں میں شرکاء کی موجودگی اب بھی ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے، تاہم نومبر میں دوحہ میں ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس کی نئی ایڈیشن مستقبل میں بارسلونا کی اس تقریب کی اہمیت کو کسی حد تک متاثر کر سکتی ہے۔

ہر سال کی طرح اس بار بھی بہترین ٹیکنالوجی اور ڈیوائسز کو گلوبل موبائل ایوارڈز (GLOMO) سے نوازا گیا۔ بہترین موبائل کا ایوارڈ iPhone 17 Pro کو ملا، جو ایک دلچسپ بات ہے کیونکہ ایپل اس تقریب میں باقاعدہ شرکت نہیں کرتا، جبکہ یہ فون چھ ماہ پہلے ہی مارکیٹ میں آ چکا ہے۔
اگر صرف اس نمائش میں پیش کیے گئے فونز کی بات کی جائے تو جیوری نے Samsung Galaxy S26 Ultra کو بہترین اسمارٹ فون قرار دیا۔ اس فون میں مصنوعی ذہانت کی جدید خصوصیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نئی پرائیویسی اسکرین بھی توجہ کا مرکز بنی، جو سائیڈ سے دیکھنے والوں کو اسکرین نظر نہیں آنے دیتی۔
اس سال کا سب سے منفرد تصور Honor کا “Robot Phone” تھا، جس میں کیمرہ ماڈیول سے ایک چھوٹا روبوٹ نما اسٹینڈ نکلتا ہے اور فون کے سینسرز اور کیمرے کی مدد سے حرکت کرتا ہے۔
چینی کمپنی نے اپنا فولڈیبل فون Magic V6 بھی پیش کیا، جس میں پانچویں نسل کی سلیکون کاربن بیٹری ہے جو کم جگہ میں زیادہ توانائی فراہم کرتی ہے۔ یہ فون فولڈ ہونے کے باوجود 9 ملی میٹر سے بھی کم موٹا ہے اور اسے بہترین جدت کا ایوارڈ دیا گیا۔
کیمرہ اب بھی اسمارٹ فونز کی فروخت کا سب سے بڑا عنصر ہے۔ Xiaomi نے یورپ میں اپنی 17 Series متعارف کرائی، جس کے 17 Ultra ماڈل میں 200 میگا پکسل کیمرہ اور طاقتور زوم شامل ہے۔
اسی طرح Leica نے اپنی سو سالہ سالگرہ کے موقع پر Leitzphone پیش کیا جس میں کیمرے کے زوم کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک خاص فزیکل ڈائل دیا گیا ہے۔
Vivo نے بھی Zeiss کے ساتھ مل کر ایک نیا فون پیش کیا جس میں 400 ملی میٹر ٹیلی فوٹو لینس اور پروفیشنل آپٹیکل اسٹیبلائزر شامل ہے۔
دوسری جانب TCL نے اپنے NXTPAPER اسکرین ٹیکنالوجی والے فون 70 Pro کو پیش کیا، جس کی اسکرین کاغذ کی طرح نرم محسوس ہوتی ہے اور آنکھوں پر دباؤ کم ڈالتی ہے۔
یورپی برانڈ Nothing نے بھی اپنا نیا فون (4a) پیش کیا جس کا شفاف ڈیزائن اور پیچھے ایل ای ڈی لائٹس اسے دوسرے فونز سے منفرد بناتی ہیں۔
اس نمائش میں ایک دلچسپ رجحان سادہ یا “ڈمب فونز” کا بھی تھا، جیسے Light Phone III، جس میں نہ سوشل میڈیا ہے اور نہ ویب براؤزر۔ یہ صرف کال، پیغام اور موسیقی تک محدود ہے تاکہ صارف موبائل کے حد سے زیادہ استعمال سے بچ سکیں۔
اگرچہ موبائل ورلڈ کانگریس اب صرف فونز تک محدود نہیں رہی اور اس میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل خدمات اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے موضوعات بھی شامل ہو چکے ہیں، لیکن اسمارٹ فون آج بھی ٹیکنالوجی کی دنیا کا سب سے اہم دروازہ ہے جس نے اربوں لوگوں تک انٹرنیٹ کو ان کی جیب میں پہنچا دیا ہے۔