اسپین میں خواتین کسان زیادہ مواقع اور مساوی حقوق کی متلاشی
Screenshot
اسپین میں دیہی علاقوں کی خواتین کسانوں نے زرعی شعبے میں زیادہ مواقع، مساوی حقوق اور بہتر سہولیات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی اور سماجی برابری کا انحصار کسی کے رہائشی علاقے یا دیہی پس منظر پر نہیں ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ زرعی شعبے میں خواتین کی شرکت بڑھ رہی ہے، لیکن انہیں اب بھی زمین، سرمایہ اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی میں متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
قومی ادارہ شماریات (INE) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں زراعت، مویشی پالنے، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں میں تقریباً ایک لاکھ ستانوے ہزار خواتین کام کر رہی ہیں، جو اس شعبے میں کام کرنے والے افراد کا تقریباً 25.3 فیصد بنتی ہیں۔ تاہم زمین کی ملکیت کے معاملے میں خواتین کا حصہ اب بھی محدود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق زرعی زمینوں کے مالکان میں صرف 30 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ ان کی زمینیں عموماً مردوں کے مقابلے میں چھوٹی اور معاشی طور پر کم منافع بخش ہوتی ہیں۔
دیہی خواتین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خواتین کو خاندانی ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ کام کے درمیان توازن قائم کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں، کیونکہ دیہی علاقوں میں بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں کا زیادہ بوجھ خواتین پر ہی ہوتا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زرعی زمینوں کی مشترکہ ملکیت سے متعلق 2011 کے قانون کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ وہ خواتین بھی قانونی طور پر مالک تسلیم کی جائیں جو اپنے شوہروں یا خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر زمین پر کام کرتی ہیں۔
دوسری جانب دیہی علاقوں میں سیاسی نمائندگی بھی خواتین کے لیے ایک چیلنج ہے۔ حالیہ مقامی انتخابات کے بعد اسپین میں صرف تقریباً 23 فیصد بلدیات کی سربراہی خواتین کے پاس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر حکومتی پالیسیوں، تربیت اور سہولیات کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنانا نہ صرف زرعی معیشت بلکہ پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔