اسپین، طب کے شعبے میں خواتین کی اکثریت، مگر قیادت میں اب بھی کمی

Screenshot

Screenshot

اسپین میں طبی شعبہ تیزی سے خواتین کی اکثریت والا پیشہ بنتا جا رہا ہے، تاہم اعلیٰ انتظامی اور قیادت کے عہدوں پر خواتین کی نمائندگی اب بھی محدود ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کو ختم کرنے کے لیے صحت کے نظام میں تنظیمی تبدیلیاں اور کام کے اوقات میں لچک پیدا کرنا ضروری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اسپین میں فعال ڈاکٹروں میں خواتین کی شرح تقریباً 62 فیصد ہے۔ فیملی اور کمیونٹی میڈیسن کے شعبے میں یہ تناسب مزید زیادہ ہے، جہاں 35 سال سے کم عمر ڈاکٹروں میں خواتین کی تعداد 66 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے باوجود صحت کے نظام میں اہم فیصلہ ساز عہدوں، جیسے شعبہ جاتی سربراہ، پروفیسرشپ اور اعلیٰ انتظامی مناصب پر خواتین کی تعداد نسبتاً کم ہے۔

طبی تنظیموں کے مطابق سیکشن سربراہوں میں خواتین کی نمائندگی 42 فیصد جبکہ شعبہ جاتی سربراہوں میں 37 فیصد ہے۔ اسی طرح جامعات میں میڈیکل فیکلٹیوں کی 48 فیصد ڈین خواتین ہیں، لیکن یونیورسٹی کے پروفیسر کے عہدوں پر یہ شرح صرف 13 فیصد رہ جاتی ہے۔ ماہرین اسے “شیشے کی چھت” کی مثال قرار دیتے ہیں، جس کے باعث خواتین کی بڑی تعداد کے باوجود قیادت میں ان کی شمولیت محدود رہتی ہے۔

ہسپانوی سوسائٹی برائے فیملی اور کمیونٹی میڈیسن (semFYC) کی صدر ریمیدوس مارتن کے مطابق صحت کے مراکز میں کام کے حالات کو موجودہ حقیقت کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر اوقات کار میں لچک اور کام و خاندانی زندگی کے درمیان توازن کو بہتر بنانا اہم ہے، کیونکہ فیملی ڈاکٹرز میں بڑی تعداد نوجوان خواتین کی ہے جنہیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ خاندانی زندگی بھی نبھانی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹروں کو اپنے کام کے شیڈول میں مناسب لچک دی جائے تو صحت کے مراکز میں باصلاحیت افراد کو برقرار رکھنا آسان ہوگا اور پیشہ ورانہ تھکن یا “برن آؤٹ” بھی کم ہو گا۔ اس کا فائدہ نہ صرف طبی عملے بلکہ مریضوں کو بھی ہوگا، کیونکہ ایک ہی ڈاکٹر کے ساتھ طویل عرصے تک علاج جاری رہنے سے صحت کے نتائج بہتر ہوتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے