اسپین حکومت نے اسرائیل میں تعینات اپنی سفیر آنا سالومون کو عہدے سے ہٹادیا

Screenshot

Screenshot

اسپین کی حکومت نے اسرائیل میں تعینات اپنی سفیر آنا سالومون کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ انہیں گزشتہ سال ستمبر میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازع کے بعد مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اسپین کو جب بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مکمل سطح پر بحال کرنا ہوگا تو ایک نئے سفیر کے لیے باضابطہ منظوری (پلاسیٹ) حاصل کرنا پڑے گی۔

بدھ کے روز سرکاری گزٹ BOE میں شائع ہونے والے حکم کے مطابق سفیر آنا سالومون کی برطرفی وزیرِ خارجہ خوسے مینوئل الباریس کی تجویز اور 10 مارچ 2026 کو ہونے والے وزارتی کونسل کے اجلاس کی منظوری کے بعد عمل میں آئی۔ یہ حکم حسبِ معمول اسپین کے بادشاہ فیلیپ ششم کے دستخط سے جاری کیا گیا، جس میں سفیر کی خدمات کو سراہا بھی گیا ہے۔

آنا سالومون جولائی 2021 سے اسرائیل میں اسپین کی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ انہیں 9 ستمبر کو حکومت نے اس وقت مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا جب اسرائیلی حکومت نے اسپین پر سخت الزامات عائد کیے اور اسپین کی دو وزراء یولاندا دیاث اور سیرا ریگو کے خلاف اقدامات کیے۔ یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا تھا جب اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے غزہ میں مبینہ “نسل کشی” کو روکنے کے لیے اقدامات کے ایک پیکج کا اعلان کیا تھا۔

اگرچہ اسپین کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد مئی 2024 میں اسرائیل نے میڈرڈ میں تعینات اپنی سفیر رودیکا ریڈیان گورڈن کو بھی مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا، تاہم اسپین نے اس کے باوجود اسرائیل میں سفارتی نمائندگی کو اعلیٰ سطح پر برقرار رکھا تھا۔ اس دوران اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کئی بار اسپین کی سفیر کو طلب کر کے اسپین کے حکومتی بیانات اور مؤقف پر احتجاج بھی کیا۔

اس وقت اسرائیل کا بھی میڈرڈ میں مستقل سفیر موجود نہیں ہے اور سفارت خانے کی سربراہی دانہ ایرلخ بطور ناظم الامور کر رہی ہیں۔ دوسری طرف اسپین کے تل ابیب میں بھی فی الحال ناظم الامور ہی سفارت خانے کی سربراہی کر رہے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق آنا سالومون کو غیر معینہ مدت کے لیے مشاورت کے لیے بلایا گیا تھا اور اب ان کی باضابطہ برطرفی کے بعد اسپین کو جب بھی اسرائیل میں مکمل سفارتی نمائندگی بحال کرنا ہوگی تو ایک نئے سفیر کی تقرری کرنا پڑے گی۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات جلد مکمل سطح پر بحال ہوں گے یا نہیں، خاص طور پر ایران پر اسرائیلی حملوں اور لبنان میں نئی فوجی کارروائیوں کے باعث اسپین کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر اسرائیل کے علاوہ نکاراگوا میں تعینات اسپین کے سفیر سرخیو فاری سالوا کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نکاراگوا کی حکومت نے جنوری کے آخر میں انہیں ملک سے نکال دیا تھا۔ اس اقدام کے جواب میں اسپین نے بھی نکاراگوا کے سفیر موریسیو گیلی کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا تھا۔

اب اسپین کی حکومت کو نکاراگوا میں بھی نئے سفیر کی تقرری کے لیے وہاں کی حکومت سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق اسپین نکاراگوا کے عوام کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے