اسپین میں صحت کی عالمگیر سہولت کو مضبوط بنانے کے لیے نیا ریئل ڈکری منظور

IMG_3029

اسپین حکومت نے ملک میں صحت کی عالمگیر سہولت کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا ریئل ڈکری منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد 2012 میں نافذ کیے گئے اس قانون کے اثرات کو کم کرنا ہے جو اُس وقت کی حکومت کے دوران منظور ہوا تھا اور جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد، خصوصاً بغیر قانونی دستاویزات کے رہنے والے مہاجرین، سرکاری صحت کے نظام سے باہر ہو گئے تھے۔

نئے قانون کے تحت صحت کی سہولت تک رسائی کو آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ ثابت کرنا ضروری تھا کہ کوئی شخص کم از کم تین ماہ سے اسپین میں رہ رہا ہے، لیکن اب اس شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم درخواست دہندہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی اسپین میں رہائش پذیر ہے۔

حکومت کے مطابق رہائش ثابت کرنے کے لیے صرف میونسپل رجسٹری یعنی پاد رون (Empadronamiento) ہی لازمی نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی قابل قبول ہوں گی جن میں کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں داخلے کا سرٹیفکیٹ، بچوں کی اسکول حاضری کا ریکارڈ، قونصل خانے کی جانب سے جاری سفری دستاویز، سماجی خدمات کی وزٹ رجسٹری کا سرٹیفکیٹ اور بجلی، گیس، پانی، ٹیلیفون یا انٹرنیٹ کے بل شامل ہیں۔

درخواست دینے والے کو ایک ذمہ داری کا حلف نامہ بھی جمع کرانا ہوگا جس میں وہ یہ اعلان کرے گا کہ اسے کسی اور ذریعے سے صحت کی سہولت دستیاب نہیں، اپنے ملک سے صحت کی سہولت منتقل نہیں کی جا سکتی اور کوئی تیسرا فریق اس کے علاج کے اخراجات ادا کرنے کا پابند نہیں۔

طریقہ کار کے مطابق درخواست گزار پہلے متعلقہ دستاویزات جمع کرائے گا، جس کے بعد اسے عارضی صحت کارڈ یا دستاویز فراہم کی جائے گی۔ انتظامیہ کے پاس درخواست پر فیصلہ کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت ہوگا اور منظوری کی صورت میں مستقل دستاویز جاری کر دی جائے گی۔

قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بعض حساس گروہوں کو ہر صورت علاج فراہم کیا جائے گا۔ ان میں 18 سال سے کم عمر بچے، حاملہ خواتین، پناہ کے متلاشی افراد، گھریلو تشدد کی متاثرہ خواتین اور ان کے بچے، انسانی اسمگلنگ یا جنسی تشدد کے متاثرین، متعدی بیماریوں کے مریض اور اسقاط حمل کروانے کی خواہش رکھنے والی خواتین شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم ہسپانوی شہری جب عارضی طور پر اسپین آئیں گے تو رجسٹریشن کے بعد سرکاری صحت کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور ان کے قریبی خاندان کے افراد کو بھی اس سہولت تک رسائی حاصل ہوگی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے