پیدروسانچز کا پی پی اور ووکس معاہدے پر سخت ردعمل، اسے “بدنامی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سےمزید تنزلی آئے گی

Screenshot

Screenshot

اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے ہفتے کے روز اس بات پر شدید تنقید کی کہ پیدروسانچز (پی پی) اور Vox (ووکس) نے ایکستریمادورا میں معاہدہ کر کے “آئینی حقوق اور عدم امتیاز کے اصول کی خلاف ورزی” کی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ “بدنامی” ہے، جس کے ذریعے دونوں جماعتیں ایسے اقدامات آزما رہی ہیں جو بنیادی حقوق کے منافی ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں María Guardiola دوبارہ خطے کی صدر منتخب ہوئی ہیں۔

سابق وزیر اعظم ژپاتیرو نے بھی اس معاہدے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پی پی پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کو “کچرے میں پھینک دے”، کیونکہ یہ آئین، بین الاقوامی قوانین اور شہری حقوق کے منشور کے خلاف ہے۔

میریدا میں سوشلسٹ پارٹی کے علاقائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ ایکستریمادورا کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو لوگوں کا تحفظ کرے، نہ کہ امتیازی پالیسیوں کے ذریعے انہیں نشانہ بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں “مزید زیادتیاں اور تنزلی” دیکھنے کو مل سکتی ہیں، اور اس صورتحال میں سوشلسٹ پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا دفاع کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو اتحاد پیدا کریں، نہ کہ معاشرے کو تقسیم کریں۔ ان کے مطابق ایکسٹریمادورا کو روشن مستقبل کے لیے کھلے اور ترقی پسند وژن کی ضرورت ہے، جس میں صحت، مساوات اور سماجی انصاف کو ترجیح دی جائے۔

دوسری جانب زاپاتیرو نے واضح کیا کہ جمہوری معاشروں میں غیر ملکی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، خاص طور پر جب بات بنیادی اور سماجی حقوق کی ہو۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

زاپاتیرو نے سانچیز کی بین الاقوامی پالیسیوں کی حمایت بھی کی، خصوصاً غزہ، یوکرین اور ایران سے متعلق معاملات پر، اور سوشلسٹ پارٹی کی تاریخی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت ماضی اور حال دونوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے