اسپین میں تاحیات تمباکو پابندی؟ برطانیہ کی مثال، مگر راستہ آسان نہیں

Screenshot

Screenshot

اسپین میں ماہرین صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف زیادہ مؤثر اور جرات مندانہ اقدامات کرے، حتیٰ کہ برطانیہ کی طرح نئی نسل کے لیے تمباکو کی فروخت پر تاحیات پابندی جیسے اقدامات پر بھی غور کیا جائے۔ تاہم حکومتی حلقے فی الحال اسے عملی طور پر ممکن نہیں سمجھتے۔

برطانیہ نے ایک تاریخی قانون منظور کیا ہے جس کے تحت یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو زندگی بھر تمباکو خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس قانون کا مقصد نئی نسل کو تمباکو کی عادت سے مکمل طور پر دور رکھنا اور بتدریج معاشرے سے اس لت کو ختم کرنا ہے۔

اسپین میں انسدادِ تمباکو تنظیمیں اس اقدام کو صحتِ عامہ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہی ہیں۔ نوفوماڈورس ڈاٹ آرگ اور دیگر ادارے چاہتے ہیں کہ اسی نوعیت کی پابندی کو ہسپانوی قانون میں بھی شامل کیا جائے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپین کی صورتحال برطانیہ سے مختلف ہے، کیونکہ وہاں تمباکو نوشی کی شرح پہلے ہی کافی کم ہو چکی ہے، جب کہ اسپین میں یہ شرح نسبتاً زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اسپین میں فوری طور پر زیادہ مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، جیسے:

  • تمباکو کی قیمتوں میں اضافہ
  • سادہ (پیکجنگ نیوٹرل) پیکنگ متعارف کروانا
  • تمباکو نوشی کے لیے مزید عوامی مقامات پر پابندی
  • ویپنگ (ای سگریٹ) کو بھی تمباکو کے برابر قوانین کے تحت لانا

ان کا کہنا ہے کہ اسپین کبھی تمباکو کنٹرول پالیسیوں میں آگے تھا، مگر اب پیچھے رہ گیا ہے۔ ہر سال تقریباً 56 ہزار افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث ہلاک ہوتے ہیں، جو ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔

وزارتِ صحت کے حکام تسلیم کرتے ہیں کہ برطانوی طرز کی پابندی میں بہت صلاحیت ہے، لیکن اسپین اس وقت قانونی اور پالیسی کے لحاظ سے اس سطح پر نہیں پہنچا۔ ان کے مطابق پہلے موجودہ قوانین کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

قانونی ماہرین بھی خبردار کرتے ہیں کہ اسپین میں ایسی پابندی متعارف کروانا آسان نہیں ہوگا۔ اس کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:

  • یہ قانون شہریوں کے درمیان عدم مساوات پیدا کر سکتا ہے (یعنی صرف مخصوص سال کے بعد پیدا ہونے والوں پر پابندی)
  • یہ فرد کی آزادیٔ انتخاب سے متصادم ہو سکتا ہے
  • اجتماعی صحت اور انفرادی آزادی کے درمیان توازن کا سوال پیدا ہوگا

ماہرین کے مطابق برطانیہ نے اجتماعی صحت کو ترجیح دی ہے، جب کہ اسپین میں اس قسم کے فیصلے کو آئینی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر، اگرچہ برطانیہ کا ماڈل ایک نئی سمت دکھاتا ہے، اسپین میں فی الحال اس کے نفاذ کے لیے سیاسی اتفاق، قانونی اصلاحات اور مضبوط عوامی صحت کی پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے