اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایران کے اہم جوہری سائنس دان اب دنیا میں نہیں ہیں۔بنیامین نیتن یاہو کا دعویٰ

IMG_3079

12 مارچ 2026 کو ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں نہ صرف ایران کے نمایاں جوہری سائنس دان ہلاک ہوئے بلکہ ایرانی حکومت کے دو اہم سکیورٹی اداروں انقلابی گارڈ (گارڈین آف دی ریولوشن) اور بسیج ملیشیا کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل کی بمباری کی مہم ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سازگار حالات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:“یہ آپ پر منحصر ہے۔ حکومت کو گرانا اب آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔”

اسرائیلی وزیرِاعظم نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی تبصرہ کیا، جنہوں نے اسی روز سرکاری ٹیلی وژن کے ذریعے اپنا پہلا پیغام جاری کیا تھا، تاہم وہ اسکرین پر نظر نہیں آئے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای انقلابی گارڈ کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں اور ان کے پاس کوئی “زندگی کی ضمانت” نہیں ہے۔ ان کا اشارہ اس امکان کی طرف تھا کہ انہیں بھی اپنے والد علی خامنہ ای کی طرح کسی ہدفی حملے میں قتل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا“ہم نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں، بلکہ توقع سے بھی زیادہ، اور ہم ایسا کرتے رہیں گے۔”

نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، جسے انہوں نے “بے معنی تماشا” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ سے نمٹنے کے لیے اسرائیل اور انہیں وقت درکار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے