مانریسا کی مسجد میں ہنگامہ آرائی، آٹھ مراکشی نژاد نوجوان گرفتار
Screenshot
اسپین کے علاقے کاتالونیا کے شہر منریسا میں رمضان کے دوران ایک مسجد کے باہر اور اندر ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات کے بعد پولیس نے مراکشی نژاد آٹھ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی عمریں 16 سے 18 سال کے درمیان ہیں جن میں سات کم عمر جبکہ ایک 18 سالہ نوجوان شامل ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعات 19 سے 24 فروری کے درمیان پیش آئے جب رمضان کے دوران منریسا کی الفتح مسجد کے اطراف کشیدگی پیدا ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق چند نوجوان مسجد کے اندر اس وقت داخل ہوئے جب نمازی نماز ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے عبادت میں مصروف افراد کو گالیاں دیں اور انہیں اشتعال دلانے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ نوجوانوں نے اس بات کا فائدہ اٹھایا کہ نمازی دورانِ نماز جواب نہیں دے سکتے۔
نماز کے بعد جب چند افراد نے نوجوانوں کے رویے پر اعتراض کیا تو جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ پولیس کے مطابق بعد ازاں ان نوجوانوں نے ایک ایسے شخص کا پیچھا کیا جس نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی اور سڑک پر اسے اجتماعی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔
ان واقعات کے بعد مقامی مسلم کمیونٹی نے پولیس سے تحفظ کی درخواست کی۔ اس کے نتیجے میں کاتالونیا کی پولیس موسوس دِ اسکوادرا نے مسجد کے اطراف خصوصاً نماز کے اوقات میں اپنی موجودگی بڑھا دی تاکہ عبادت کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس دوران بعض مواقع پر نوجوانوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا، تاہم کسی کے زخمی ہونے یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تحقیقات کے بعد 11 مارچ کو ان نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر تشدد، دھمکیوں، عوامی بدامنی پھیلانے اور مذہبی آزادی و مذہبی جذبات کے خلاف جرم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ معاملہ مسلم کمیونٹی کے اندرونی تنازع سے جڑا ہو سکتا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بعض نوجوان رمضان کے دوران نماز پڑھنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کے خلاف احتجاج کے طور پر اس طرح کا رویہ اختیار کر رہے تھے۔