اسپین میں اوپن امیگریشن معاملہ پر سیاسی کشیدگی برقرار
اسپین قومی اسمبلی میں حالیہ ووٹنگ کے بعد اسپین میں غیر قانونی مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی تنازع کا مرکز بن گیا ہے۔ حکمران جماعت سوشلسٹ اپنے اس منصوبے پر قائم ہے جس کے تحت تقریباً پانچ لاکھ مہاجرین کو ریگولرائز کیا جا سکتا ہے، تاہم اپوزیشن کی بڑی جماعت پاپولر پارٹی اور دائیں بازو کی جماعت ووکس اس اقدام کی سخت مخالفت کر رہی ہیں۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق دونوں اطراف کے درمیان اختلافات میں شدت آ چکی ہے اور کسی بھی حتمی قانون سازی کے لیے ضروری سیاسی اتفاق رائے فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس ساری صورتحال میں کاتالان جماعت جنتس پر کاتالونیا کا کردار فیصلہ کن بن گیا ہے، کیونکہ اس کی حمایت حکومت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کوئی نیا قانون منظور ہونے کا امکان کم ہے۔ حکومت آئندہ دنوں میں مجوزہ مسودے کو حتمی شکل دینے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں کوئی بڑا بریک تھرو متوقع نہیں، تاہم آنے والے چند ہفتوں میں ایک نیا ڈرافٹ سامنے آ سکتا ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق اگر سیاسی پیش رفت ہوئی تو اپریل یا مئی 2026 میں درخواستوں کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے، لیکن اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ قواعد یا طریقہ کار جاری نہیں کیا گیا۔
حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صبر سے کام لیں اور اپنی ضروری دستاویزات، جیسے رہائش کا ثبوت اور شناختی کاغذات، پہلے سے تیار رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ عمل کے آغاز پر فوری فائدہ اٹھایا جا سکے۔