اسپین میں جمالیاتی کلینکس پر سختی: غیر مستند افراد پر پابندی، نیا قانون یکم جولائی سے نافذ

Screenshot

Screenshot

اسپین کی وزارتِ صحت نے جمالیاتی کلینکس میں غیر پیشہ ور افراد کی مداخلت روکنے کے لیے اہم قانون سازی منظور کر لی ہے، جو یکم جولائی سے نافذ العمل ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ایسے علاجوں کو محدود کرنا ہے جو غیر مستند افراد کے ذریعے انجام دیے جا رہے تھے۔

نئے قانون کے تحت صرف وہی ڈاکٹر اور ماہرین جمالیاتی سرجری یا طبی طریقہ کار انجام دے سکیں گے جن کے پاس متعلقہ شعبے میں باقاعدہ ڈگری اور سرکاری طور پر تسلیم شدہ مہارت موجود ہو۔ اس کے ساتھ ہی تمام طبی مراکز کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عملے کی مکمل تفصیلات، بشمول تعلیم اور تخصص، باقاعدہ طور پر محفوظ اور اپڈیٹ رکھیں۔

وزراء کی کونسل کی جانب سے 2003 کے رائل ڈکری میں ترمیم کے ذریعے اس قانون کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ اس میں کلینکس کو چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے عملے کو نئے معیار کے مطابق ہم آہنگ کر سکیں اور محفوظ طبی طریقہ کار کو یقینی بنائیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں تقریباً 47 فیصد افراد کسی نہ کسی جمالیاتی علاج سے گزر چکے ہیں، مگر تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں سے 65 فیصد طریقہ کار غیر طبی افراد کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، 20 فیصد علاج غیر رجسٹرڈ مقامات جیسے بیوٹی سیلون یا گھروں میں کیے جاتے ہیں، جو مریضوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط ہاتھوں میں علاج کروانے سے الرجی، سوجن، عضلاتی کمزوری اور حتیٰ کہ جسمانی بافتوں کے نقصان جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ نئی قانون سازی کو اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے خلاف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مریضوں کا تحفظ بہتر ہوگا بلکہ شعبہ صحت میں پیشہ ورانہ معیار بھی بلند ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے